غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ انسانوں کی پیدا کردہ تباہی ہے، عاصم افتخار
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
فائل فوٹو
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ قدرتی نہیں انسانوں کی پیدا کردہ تباہی ہے۔
سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اجلاس سے خطاب میں عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی غزہ میں امداد کی ناکابندی نے ناقابل تصور انسانی المیے کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں جاری مظالم روکنے کے لیے اب صرف الفاظ کافی نہیں، غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کو عملی طور پر روکنا ہوگا۔
دوسری جانب اجلاس میں فلسطینی مندوب اسرائیل کے وحشیانہ حملوں اور امداد کی بندش سے غزہ کے ہزاروں بچوں کی شہادت اور ان کی ماؤں کی گری و زاری کا حال بتاتے ہوئے شدت غم سے رو پڑے۔
فلسطینی مندوب نے روتے ہوئے کہا کہ یہ ناقبل برداشت ہے، کوئی کیسے یہ برداشت کر سکتا ہے؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔