پاکستان کے دفاع پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کے دفاع پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں یوم تکبیر کے موقع پر قلات میں ریلی کا انعقاد، افواج پاکستان کو خراج تحسین
یوم تکبیر پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہاکہ پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بنا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ پاکستان کو دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں خصوصاً فلسطین کے لیے بھرپور آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہاکہ قیامِ پاکستان کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دیں، پاکستان کا دفاع ایمانی فریضہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں یوم تکبیر: وطن کا دفاع ناقابل تسخیر ہونے پر پوری قوم کا سر فخر سے بُلند
واضح رہے کہ آج ملک بھر میں یوم تکبیر انتہائی جوش و جذبے سے منایا جارہا ہے، یہ وہ دن ہے جب 28 مئی 1998 کو پاکستان ایٹمی قوت کے طور پر سامنے آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جمعیت علما اسلام جے یو آئی دفاع وطن مولانا فضل الرحمان وی نیوز یوم تکبیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جمعیت علما اسلام جے یو ا ئی دفاع وطن مولانا فضل الرحمان وی نیوز یوم تکبیر مولانا فضل الرحمان پاکستان کو یوم تکبیر نے کہاکہ کے لیے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔