نواز شریف بڑے عوامی لیڈر، بنیان مرصوص انکی نگرانی میں کامیاب ہوا: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے پنجاب اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی زیرنگرانی پاکستان نے بھارت کے خلاف "بنیان المرصوص" آپریشن کامیابی سے سر انجام دیا۔ "میں ان لوگوں کو جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی جو 9 مئی جیسے قومی سانحے کو فالس فلیگ آپریشن قرار دیتے ہیں۔ علیمہ خان اور پی ٹی آئی رہنما مسلسل پاکستان فوج کے خلاف بیانیہ بناتے رہے اور جنگ جیسے حساس معاملے کو ڈرامہ قرار دیتے رہے۔ "نواز شریف نہ صرف پاکستان کے سب سے بڑے عوامی لیڈر ہیں بلکہ ان کی قیادت میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سمت واضح ہوتی ہے۔" پاک بھارت حالیہ کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ "جنگی حکمت عملی وزیراعظم نے پاک فوج اور نواز شریف سے مشاورت کے بعد ترتیب دی، جس کے نتیجے میں پاکستان نے عالمی سطح پر سرخرو کامیابی حاصل کی۔" قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے پاک فوج کو مکمل اختیارات دے دئیے تھے۔ " 10 مئی کو دشمن کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔ آج دنیا اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ پاکستان کی حکمت عملی مؤثر اور کامیاب تھی، سوائے ان عناصر کے جو ہر صورت میں اپنی سیاسی بقا کو ملکی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔"انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "جنگ ختم ہوئے 48 گھنٹے بھی نہیں گزرے اور ملک میں طوفانِ بدتمیزی برپا کر دیا گیا ہے۔ جو لوگ آج اس کامیابی کا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہی کل اسے جعلی قرار دے رہے تھے۔ "مودی جنون کا شکار ہو چکا ہے، لیکن پاکستان ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست ہے۔ نواز شریف اور آرمی چیف دونوں نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا، مگر دفاع کا حق ہمیشہ محفوظ رکھے گا۔"آخر میں انہوں نے کہا کہ "ہم نے 28 مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکوں کے ذریعے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنایا اور آج بھی پاکستان ہر محاذ پر مضبوط اور متحد ہے۔"
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔