عمران خان سے بہنوں کی 40 منٹ تک ملاقات، علیمہ خان نے بیرسٹر گوہر سے اہم سوال پوچھ لیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ان کی بہنوں کی ملاقات ہوئی ہے، جو قریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
یہ بھی پڑھیں عمران خان کو کس شرط پر رہا کیا جائےگا؟ علیمہ خان نے سوال پوچھ لیا
عمران خان سے ان کی بہنوں عظمیٰ خان اور نورین خان نے ملاقات کی۔ ملاقات اڈیالہ جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی، اور اس دوران عمران خان کی صحت، زیر سماعت اپیلوں اور دیگر امور پر گفت و شنید کی گئی۔
ملاقات سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے میڈیا کے سامنے ہی بیرسٹر گوہر سے جواب طلب کرتے ہوئے کہاکہ آپ بتائیں کیا عمران خان 5 جون کو رہا ہورہے ہیں۔
اس پر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ میرے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ 5 جون کو ہمارا کیس لگ رہا ہے، جو بوگس ہے اور وہ اس بنیاد پر ختم جائےگا۔
اس موقع پر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہاکہ میں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہوں اور ہمیشہ ساتھ رہوں گا۔
یہ بھی پڑھیں ساری زندگی جیل میں رہ لوں گا جھکوں گا نہیں، عمران خان کی پارٹی کو بڑی تحریک کی تیاری کی ہدایت
دوسری جانب عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ان کے فوکل پرسن رائے سلمان، وکیل عرفان خان نیازی اور خلیل اعوان نے ملاقات کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بہنوں کی ملاقات بیرسٹر گوہر عظمیٰ خان عمران خان نورین خان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بہنوں کی ملاقات بیرسٹر گوہر وی نیوز عمران خان کی بیرسٹر گوہر
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز