پی ٹی آئی کا ممکنہ احتجاج؛ اسلام آباد ہائیکورٹ کے اطراف سکیورٹی کی اضافی نفری تعینات
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پی ٹی آئی کی جانب سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد ہائی کورٹ کے اطراف سکیورٹی کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔
نجی چینل کے مطابق عدلیہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے آج احتجاج کی کال دی گئی تھی، اس تناظر میں آج اسلام آباد ہائی کورٹ اور دیگر مقامات پر سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔
ہائی کورٹ کے اطراف میں پولیس ، ایف سی کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ اعلان کے مطابق پی ٹی آئی ارکان اسمبلی و کارکنان عدلیہ سے اظہار یکجہتی کریں گے ۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈز نیب کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کیس تاحال مقرر نہیں ہو سکا ہے۔ پی ٹی آئی قیادت آج پھر کیس مقرر کروانے کے لیے ہائیکورٹ آئے گی۔
اُدھر مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر آج بھرپور احتجاج ہوگا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ احتجاج میں تمام اپوزیشن جماعتوں کو دعوت دی گئی ہے۔
بیرسٹر سیف نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کی زنجیریں توڑ کر عمران خان کے کیسز سنے جائیں۔26ویں آئینی ترمیم نے عدالتی نظام مفلوج کر دیا ہے۔ انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقدمات کی سماعت میں تاخیر ثابت کرتی ہے کہ کیسز جھوٹے ہیں۔ اگر کیسز میں کچھ ہوتا تو تاخیر نہ کی جاتی۔ کیسز میں تاخیر کا مقصد عمران خان کو قید رکھنا ہے۔ عمران خان جعلی حکومت کے اعصاب پر سوار ہیں۔ عمران خان کی رہائی سے جعلی حکومت اپنا انجام دیکھ رہی ہے۔
پی ٹی آئی کا ملک گیر تحریک کا اعلان، پارٹی رہنماؤں کو تیاری کی ہدایت
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔