اسلام آباد (عترت جعفری) پاکستان اور آئی ایم ایف نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان روپے کی قدر میں کمی کو روکنے کے لیے زرمبادلہ کو زیر استعمال نہیں لائے گا۔ آئی ایم ایف کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تمام صوبے پراپرٹی پر ٹیکسیشن کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ آئندہ کسی بھی پراپرٹی پر ٹیکس کرایہ کی بجائے ویلیو کی بنیاد پر لگے گا۔ صوبوں کے اندر ٹیکسوں کی وصولی کو بہتر بنانے کے لیے معلومات کے تبادلہ کا میکنزم بنایا جا رہا ہے اور صوبوں سے زرعی انکم ٹیکس  کی وصولی کے حوالے سے بھی اعدادوشمار  حاصل کیے جائیں گے۔ ریونیو کے کسی بھی شارٹ فال کے ایڈجسٹمنٹ اخراجات میں کمی کے ذریعے کی جائے گی۔ گیس کے شعبہ میں موجود سرکلر ڈیٹ کی رپورٹنگ اب سہ ماہی بنیاد پر کی جائے گی۔ گورننس کے حوالے سے تشخیصی رپورٹ جولائی میں شائع کر دی جائے گی اور اس پر عمل درآمد کیلئے ایکشن پلان بھی تیار کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کو کہا گیا ہے ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائی کو تیز کیا جائے اور ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کو موثر بنایا جائے۔ آئی ایم ایف نے ٹیکس حکام کے اختیارات میں مزید اضافہ کی سفارش کی ہے اور پوائنٹ آف سیل پر ٹیکس چوری پر جرمانہ  پانچ لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ کرنے کی تجویز دی ہے۔  ٹیکس  چوری پر فوجداری کارروائی کو سخت بنانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ سولر پینلز پر ٹیکس  استثنیٰ کو ختم کرنے، کھاد، سپرے اور زرعی آلات پر جی ایس ٹی لگانے اور لگژری اشیاء  پر سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 25 فیصد کرنے کی سفارش بھی دی گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے یا تنخواہ یا پنشن میں اضافہ کی تجویز کی مخالفت نہیں کی۔ پاکستانی حکام سے  کہا ہے کہ ان رعایات سے جو ریونیو کا نقصان ہوگا اس کو پورا کرنے کے لیے متبادل انتظام بجٹ کا حصہ ہونا چاہیے۔ اس کے لیے آئی ایم ایف نے تجویز کیا کہ غیر ضروری سبسڈیز میں کمی کر دی جائے اور ٹیکس ایگزمپشنز کو بھی ختم کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف نے پر ٹیکس کے لیے

پڑھیں:

ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان

اسلام آباد:

ایف بی آر نے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان کردیا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا ہے کہ ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا باقاعدہ آغاز 27 جولائی سے ہوگا۔ ترجمان کی جانب سے تمام ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ٹیکس گوشوارے درست، مکمل اور دیانتداری کے ساتھ جمع کرائیں تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

ترجمان ایف بی آر کے مطابق ٹیکس ریٹرن میں فراہم کی جانے والی تمام معلومات درست اور حقیقت پر مبنی ہونا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ٹیکس دہندہ اس بات کو یقینی بنائے کہ گوشوارے میں درج تمام تفصیلات حقائق کے مطابق ہوں تاکہ شفافیت اور درستگی برقرار رہے۔

ایف بی آر کے ترجمان نے کہا کہ بروقت اور درست ٹیکس گوشوارے مضبوط ٹیکس نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس دہندگان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنے ریٹرن بروقت جمع کرائیں اور معلومات کی درستگی کا خاص خیال رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ