یو این او، فلسطینی مندوب بچوں کی شہادت کا حال بتاتے ہوئے رو دیئے
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
سلامتی کونسل اجلاس میں فلسطینی مندوب غزہ کے ہزاروں بچوں کی شہادت کا حال بتاتے ہوئے شدت غم سے رو پڑے۔ فلسطینی مندوب نے روتے ہوئے کہا کہ یہ ناقابل برداشت ہے، کوئی کیسے یہ برداشت کرسکتا ہے۔؟ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل اجلاس میں فلسطینی مندوب اسرائیل کے وحشیانہ حملوں اور امداد کی بندش سے غزہ کے ہزاروں بچوں کی شہادت اور ان کی ماؤں کی گریہ و زاری کا حال بتاتے ہوئے شدت غم سے رو پڑے۔ فلسطینی مندوب نے روتے ہوئے کہا کہ یہ ناقابل برداشت ہے، کوئی کیسے یہ برداشت کرسکتا ہے۔؟ واضح رہے کہ کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو نے ایک بار پھر غزہ میں فوری جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے والدین کی دل دہلا دینے والی چیخیں آسمان تک پہنچ رہی ہیں۔
سینٹ پیٹرز اسکوائر پر اجتماع سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ غزہ کے والدین اپنے معصوم بچوں کی لاشیں سینے سے لگائے بیٹھے ہیں، ان کی دل دہلا دینے والی چیخیں آسمان تک پہنچ رہی ہیں۔ پوپ لیو کا کہنا تھا کہ غزہ میں لڑائی فوری بند کی جائے، انسانی قوانین کا احترام کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطینی مندوب بچوں کی غزہ کے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔