عام لوگوں کی شکا یات حل کر نے میں محتسب کے اداروں کا اہم کردار ہے۔اعجاز احمد قر یشی
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
عام لوگوں کی شکا یات حل کر نے میں محتسب کے اداروں کا اہم کردار ہے۔اعجاز احمد قر یشی WhatsAppFacebookTwitter 0 29 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:محتسب اور محتسب کی طر ح کے دیگر ادارے قانون کی حکمرانی، شکایات کے ازالے اور گڈ گورننس کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان خیا لا ت کا اظہار وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے گز شتہ روز وفاقی محتسب سیکرٹریٹ میں امبڈ سمین شپ اور عا لمی معیار کے تقاضے کے موضوع پر ایک ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی جو کہ 47 رکنی ایشین امبڈ سمین ایسوسی ایشن کے موجودہ صدر بھی ہیں، نے کہا کہ یہ بات انتہائی اطمینان بخش ہے کہ محتسب کے ادارے عوامی شکایات کے مفت اور جلد ازالے کے لیے ایک قابل اعتماد فورم کے طور پر سامنے آ ئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی محتسب پا کستان کے ادارے نے اپنی کارروائیوں کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیارات کے ساتھ ہم آہنگ کر رکھا ہے، جو اقوام متحدہ جنر ل اسمبلی کی متعدد قرار دادوں بشمول پیر س اور وینس اصول اور گز شتہ سال کی قرارداد میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی معیار محتسب کے اداروں کے مینڈیٹ کو موثر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے جامع رہنما ئی فراہم کرتے ہیں۔
وفاقی محتسب نے مزید کہا کہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق کی گئی دفتری کا رروا ئی پوری دنیا میں محتسب کے اداروں کے کام کو زیادہ معتبر اور قانونی حیثیت دیتی ہے۔ ویبینار سے خطاب کرتے ہو ئے نسٹ لاء سکول کے پرنسپل اور ڈین مسٹر جسٹس (ریٹائرڈ) ایم نواز واہلہ نے اپنے کلیدی خطاب میں ان بین الاقوامی معیارات کی اہمیت پر روشنی ڈالی جو محتسب اور ثالثی اداروں کی کا رکر دگی کو ایک نما یاں سمت فرا ہم کر تے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اپنی متعدد قراردادوں کے ذریعے گڈگورننس اور قانون کی حکمرانی کے احترام کے علاوہ انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے فروغ اور تحفظ میں محتسب اور ثالثی اداروں کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ ویبینار میں ایشین امبڈ سمین ایسوسی ایشن (اے او اے)، او آئی سی امبڈسمین ایسوسی ایشن (او آئی سی او اے)، فورم آف پاکستان امبڈسمین (ایف پی او)، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے ممبران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمخصوص نشستیں نظرثانی کیس: کیا جج آئین سے باہر جا کر فیصلہ دے سکتے ہیں اور آئین ری رائٹ کرسکتے ہیں؟ جسٹس محمد علی مظہر نے سوال اٹھا دیا مخصوص نشستیں نظرثانی کیس: کیا جج آئین سے باہر جا کر فیصلہ دے سکتے ہیں اور آئین ری رائٹ کرسکتے ہیں؟ جسٹس محمد علی... عمران خان نے کہا اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کیلئے دروازے کھلے ہیں: سینیٹر علی ظفر عمران خان کے پنجاب میں قائم سیاسی کمیٹی پر تحفظات، عالیہ حمزہ سربراہ مقرر وزیر داخلہ وژن ، چیئرمین سی ڈی اے کے احکامات ،ڈپٹی کمشنر سی ڈی اے کی سربراہی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ،، تفصیلات... ججز ٹرانسفر و سنیارٹی کیس: سپریم کورٹ نے فیصلے کی ممکنہ تاریخ دے دی وزیراعظم 3 روزہ دورہ آذربائیجان کے بعد تاجکستان روانہ ہوگئے
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: محتسب کے اداروں
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔