اصغریہ کے تحت مرکزی ورکنگ کونسل اجلاس و مینیجمنٹ ورکشاپ، تربیتی نشستوں اور روحانی محافل کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
اسلام ٹائمز: اجلاس میں سندھ بھر سے ڈویژنل و ضلعی ذمہ داران نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس میں سہ ماہی کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں، جن کی روشنی میں مختلف ڈویژنز اور اضلاع کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںخصوصی رپورٹ
اصغریہ آرگنائزیشن پاکستان کے زیرِ اہتمام دو روزہ مرکزی ورکنگ کونسل اجلاس و مینیجمنٹ ورکشاپ کا انعقاد جامع مسجد جعفریہ اسٹیل ٹاؤن کراچی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سندھ بھر سے ڈویژنل و ضلعی ذمہ داران نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس میں سہ ماہی کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں، جن کی روشنی میں مختلف ڈویژنز اور اضلاع کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے قیمتی تجاویز و مشورے دیئے، جنہیں آئندہ کے لائحہ عمل میں شامل کیا گیا۔ ورکشاپ کے دوران تنظیمی نظم و نسق، قیادت سازی، پالیسی سازی، ادارہ جاتی بہتری، اور فکرِ ولایت جیسے موضوعات پر سیشنز منعقد ہوئے۔ ان نشستوں میں انجینئر غلام رضا جعفری، فضل حسین اصغری، عبدالرزاق بلو، محمد حنیف کانھیو، لطف مہدوی، سینگار حسین حسینی، مرکزی صدر غلام حسین جعفری و دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شیعہ علماء کونسل کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ شبیر حسن میثمی نے "بیداری امت میں تشیع کے کردار" پر مدلل گفتگو کی، جبکہ پروفیسر ڈاکٹر زاہد علی زاہدی نے تنظیمی کارکنان کو عصرِ حاضر کے تقاضوں، سماجی و سیاسی شعور، اور اسکلز ڈیولپمنٹ کی ضرورت پر زور دیا۔ تربیتی نشستوں کے ساتھ ساتھ روحانی محافل اور ولائی گفتگوؤں نے شرکاء کے افکار و قلوب کو امام زمانہ (عج) کی نصرت کیلئے تیار کیا۔ اجلاس کے آخری سیشن میں آئندہ سال کے اہداف، تنظیمی پالیسیز، تربیتی منصوبے اور دعوتی سرگرمیوں کا تفصیلی خاکہ پیش کیا گیا۔ شرکاء کی قیمتی آرا سے منصوبہ بندی کو بہتر اور نتیجہ خیز بنایا گیا۔ پروگرام کا اختتام دعائے امام زمانہ (عج) کی اجتماعی تلاوت سے ہوا۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔(ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اجلاس میں
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔