UrduPoint:
2026-06-03@02:07:13 GMT

روس کے درجنوں طیارے ڈرون حملے سے تباہ کر دیے، یوکرین

اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT

روس کے درجنوں طیارے ڈرون حملے سے تباہ کر دیے، یوکرین

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 01 جون 2025ء) یوکرین کی انٹیلی جنس ایجنسی ایس بی یو نے اتوار کو کہا کہ اس نے ایک مربوط کارروائی میں روسی فوج کی چار ایئر فیلڈز پر حملہ کیا ہے جس میں 40 سے زیادہ جنگی اور جاسوس طیارے تباہ ہو گئے ہیں۔

یوکرینی ایجنسی نے کہا کہ "آپریشن اسپائیڈر ویب" کے نتیجے میں Tupolev Tu-95 اور Tu-22 جنگی طیاروں کے ساتھ ساتھ Beriev A-50 ابتدائی وارننگ والے طیارے بھی تباہ ہوئے۔

واضح رہے یوکرین کے ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔ روسی میڈیا میں حملے کی تصدیق تو کی جارہی ہے لیکن فی الحال نقصان کی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔

یوکرین کے ایک سرکاری اہلکار نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس کارروائی کو انجام دینے میں ڈیڑھ سال کا عرصہ لگا۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید بتایا کہ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی اس آپریشن کی ذاتی سطح پر سربراہی کر رہے تھے۔

ڈرونز نے یوکرین سے چار ہزار سے زائد کلومیٹر دور روس کے سائبیریا خطے کے ارکتسک علاقے میں بیلایا ایئر بیس سمیت ایئر فیلڈز کو نشانہ بنایا۔

اس حملے کا انکشاف آج ایسے دن ہوا ہے جب زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین پیر کو روس کے ساتھ براہ راست امن مذاکرات کے نئے دور کے لیے ایک وفد استنبول بھیجے گا۔

ٹیلی گرام پر زیلنسکی نے ایک بیان میں کہا کہ وزیر دفاع رستم عمروف یوکرینی وفد کی قیادت کریں گے۔ زیلنسکی کے بقول، "ہم اپنی آزادی، اپنی ریاست اور اپنے لوگوں کے تحفظ کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں۔" روسی حملے نے یوکرینی فوج کے یونٹ کو نشانہ بنایا

یوکرین کی فضائیہ نے کہا کہ فروری 2022 میں مکمل حملے کے بعد روس نے اتوار کو یوکرین پر سب سے زیادہ تعداد میںڈرون (472) لانچ کیے ہیں۔

ایئر فورس کی کمیونیکیشن کے سربراہ یوری اگنات نے کہا کہ روسی افواج نے ڈرون کے بیراج کے ساتھ ساتھ سات میزائل بھی داغے۔ اس سے قبل یوکرین کی فوج نے کہا تھا کہ فوج کے تربیتی یونٹ پر روس کے میزائل حملے میں کم از کم 12 یوکرینی فوجی ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

اس حملے کے بعد یوکرین کی بری فورسز کے کمانڈر میخائیلو دراپاٹی نے اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ٹریننگ گراؤنڈ پر روسی حملے میں بارہ سپاہیوں کی ہلاکت کی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں۔

یہ تربیتی یونٹ ایک ہزار کلومیٹر کی فعال فرنٹ لائن کے عقب میں واقع ہے، جہاں روسی جاسوسی اور اسٹرائیک ڈرون حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ادارت: رابعہ بگٹی

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے یوکرین کی نے کہا کہ روس کے

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی