پیٹرول و دیگر اشیا: کیا اب کیش خریداری پر زیادہ پیسے ادا کرنے ہوں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
وفاقی حکومت 2025-26 کے بجٹ میں نقد لین دین کی حوصلہ شکنی اور فیول اسٹیشنز، ریٹیل اور دیگر خدمات پر پیٹرول، ڈیزل خریدنے کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کے لیے دوہری قیمتوں کا تعین اور ٹیکس عائد کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگی کے لیے ’گوگل والٹ‘ کا اجرا
حکومت کی طرف سے مطلع کردہ پیٹرولیم قیمتوں کا اطلاق صرف ڈیجیٹل ادائیگیوں پر ہوگا۔ فیول اسٹیشنوں پر نقد لین دین پر ایک لیٹر پر 2،3 روپے اضافی بھرنے پڑیں گے۔
تمام فیول اسٹیشنوں پر لازمی ہوگا کہ وہ کیش کے ساتھ کیو آر کوڈز، کارڈ مشینیں اور موبائل ادائیگی کے آپشنز صارفین کو فراہم کریں۔
بجٹ تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس میں ایک سے ڈیڑھ فیصد پوائنٹس کی کمی کرے گا۔
مزید پڑھیے: خردہ فروش ڈیجیٹل لین دین سہولیات مربوط کریں، ایف بی آر
ڈیجیٹل لین دین اسٹینڈرڈ 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے تابع ہوں گے جب کہ نقد پر مبنی لین دین پر اضافی 2 فیصد جی ایس ٹی لگے گا۔ تمام درآمد کنندگان اور مینوفیکچررز کو اس قیمت کا اطلاق اپنے خوردہ فروشوں اور سپلائرز پر کرنا ہوگا۔
ایک قانونی تقاضہ متعارف کرایا جائے گا جس میں ہر کاروبار کو سائز سے قطع نظر نقد اور ڈیجیٹل ادائیگی دونوں کے اختیارات پیش کرنے کی ضرورت ہوگی۔ مہنگی POS مشینوں کی ضرورت سے بچنے کے لیے کیو آر کوڈز کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت مہیا کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ایئرپورٹ نے مسافروں کی شکایات کے ازالے کے لیے کیو آر کوڈ متعارف کرادیا
توقع ہے کہ اس نئی پالیسی سے غیر دستاویزی لین دین پر زیادہ لاگت آئے گی اور ہر کسی کو ٹیکس نیٹ میں آنے کی ترغیب دی جائے گی۔
دوہری قیمتوں کا طریقہ کار اس کوشش کی حمایت کرے گا اور پیٹرولیم کی فراہمی اور فروخت کا پتا لگانے کی صلاحیت کو بہتر بنائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈیجیٹل پیمینٹ کیش ادائیگی کیش پیمنٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈیجیٹل پیمینٹ کیش ادائیگی کیش پیمنٹ ڈیجیٹل ادائیگی لین دین کے لیے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔