آئندہ مالی سال  کے وفاقی بجٹ ڈیجیٹل پیمنٹس کو فروغ دینے کیلئے اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت پیٹرول پمپ سے نقد تیل خریدنے پر 3 روپے تک اضافی وصولی کی تجویز زیر غور ہے۔

رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات سمیت ہر قسم کی نقد خریداری کی حوصلہ شکنی کے لیے اضافی رقم لینے کی تجویز ہے، مالی سال 26-2025 میں نقد خریداری کی حوصلہ شکنی پر مبنی تجاویز فنانس بل کا حصہ بنائے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرول پمپ سے نقد تیل خریدنے پر تین روپے تک اضافی وصولی کی تجویز زیر غور ہے، پیٹرول پمپس پر نقد کے ساتھ ڈیجیٹل ادائیگی کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

ذرائع نے کہا کہ کیو آر کوڈز، ڈیبٹ، کریڈٹ کارڈز اور موبائل ادائیگی کے اقدامات کیے جائیں گے، تجویز منظور ہونے کی صورت میں مینو فیکچررز اور درآمد کنندگان نقد فروخت پر اضافی 2 فیصد ٹیکس لے سکیں گے۔

ذرائع کے مطابق اس تجویز کو قابل عمل بنانے کے لیے کارپوریٹ سیکٹر کے ساتھ متعدد اجلاس ہو چکے ہیں،  دکانوں پر نقد خریداری پر بھی اضافی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

ریسٹورنٹس پر پہلے ہی کارڈ سے ادائیگی پر ٹیکس کی چھوٹ ہے، بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی شرح کی مد میں زیادہ ریلیف نہیں مل سکے گا۔

ذرائع کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف معمولی نوعیت کا ہوگا، خریدار زیادہ ٹیکس ادا کرنے کے بعد نقد ادائیگی کرنے میں آزاد ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ درآمد کنندگان اور مینوفیکچررز کو اپنےسپلائرز اور خریداروں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں پر معیاری 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس وصول کرنا ہو گا، یہ ادائیگیاں بھی سادہ کیو آر کوڈز اور دیگر ڈیجیٹل حل کےذریعے دستیاب ہوں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی تجویز کے لیے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی