وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے عیدالاضحیٰ پر خصوصی ٹرینیں چلانے کا اعلان کیا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر نے کہا کہ عیدالاضحیٰ پر 5 خصوصی ٹرینیں چلائی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے کی آمدن 83 ارب روپےتک پہنچ گئی ہے، رواں مالی سال 42 ارب روپے پسنجر سروسز سے، 29 ارب روپے فریٹ سروس سے اور 13 ارب دیگر ذرائع سے کمائے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ریلوے ملازمین کو پاکستان محکمہ ریلوے کی تنخواہیں خود دے رہا ہے، ریلوے میں 1413 نئی ویگنز تیار کی جا رہی ہیں۔

وفاقی وزیر ریلوے نے یہ بھی کہا کہ 15 جون کو لاہور سے نارووال کے لیے نئی ریل سروس کا آغاز ہو گا، 15 جون کو لاہور سے ملتان، سندھ اور بارڈر تک روس کے لیے فریٹ ٹرین روانہ ہوگی، ریکوڈک اور تھر کول کی ترسیل کےلیے ریلوے کو اپ لفٹ کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا فریٹ ٹرینز سے آمدن حاصل کرتی ہے، ہم بھی آؤٹ سورس کریں گے، وزیر اعظم شہباز شریف کی سوچ کے مطابق رائل پام آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے۔

حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ ریلوے اسپتالوں کو بھی آؤٹ سورس کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جبکہ 14 ریلوے اسکول آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا