اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2025ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے کہا ہے کہ غزہ میں واقع امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ ایک امدادی تنظیم کے ایک سینٹر کے قریب ہونے والے حملے کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔

گزشتہ روز غزہ میں اس امدادی مرکز کے قریب ہوئے ایک حملے کے نتیجے میں کم از کم 31 فلسطینی ہلاک ہو گئے تھے۔

مقامی ریسکیو اہلکاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ہلاکتیں اسرائیلی فوج کی طرف سے کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں ہوئیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بارے حقائق جاننے کی غرض سے تفتیشی عمل جاری ہے۔

گوٹیرش نے کہا، ''غزہ میں امداد کے حصول کی کوشش کرتے ہوئے فلسطینیوں کے قتل اور زخمی ہونے کی خبروں پر میں شدید افسوس اور صدمے کی حالت میں ہوں۔

(جاری ہے)

یہ ناقابل قبول ہے کہ فلسطینیوں کو خوراک کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنا پڑ رہی ہے۔‘‘

گوٹیرش نے مزید کہا، ''میں ان واقعات کی فوری اور آزادانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتا ہوں۔‘‘

تازہ ترین حملے میں کم از کم چودہ فلسطینی ہلاک

غزہ پٹی میں پیر کے روز ایک رہائشی عمارت پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں کم ازکم چودہ افراد مارے گئے ہیں۔

غزہ میں حماس کے طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

شِفا اور الاہلی ہسپتالوں کے حکام نے بتایا کہ شمالی غزہ کے جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں ہونے والے ان حملوں میں پانچ خواتین اور سات بچے مارے گئے۔

اسرائیلی فوج نے اس حملے کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ صرف عسکریت پسندوں کو نشانہ بناتا ہے اور عام شہریوں کو نقصان پہنچانے سے گریز کرتا ہے۔

اسرائیل کا الزام ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکت کا ذمہ دار حماس ہے کیونکہ اس فلسطینی عسکریت پسند گروہ کے جنگجو گنجان آباد علاقوں میں چھپے ہوئے ہیں۔

غزہ پٹی کھنڈر بن چکی ہے، امدادی ادارے

اسرائیلی کارروائیوں نے غزہ کے بیشتر علاقے کو تباہ اور 90 فیصد آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔ یورپی یونین، امریکہ اور متعدد مغربی ممالک حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔

اسرائیل نے عندیہ دیا ہے کہ وہ غیر معینہ مدت تک غزہ پر کنٹرول برقرار رکھے گا اور غزہ سے فلسطینیوں کی ''رضاکارانہ ہجرت‘‘ میں معاونت فراہم کرے گا۔

یہ تنازعہ کیسے شروع ہوا؟

اسرائیل اور حماس کے درمیان مسلح تنازعہ اس وقت شروع ہوا تھا، جب فلسطینی عسکریت پسندوں نے 7 اکتوبر 2023ء کو اسرائیل پر حملہ کر کے تقریباً 1,200 افراد کو ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا لیا تھا۔

حماس اب بھی 58 یرغمالیوں کو قید رکھے ہوئے ہے، جن میں سے تقریباً ایک تہائی کے زندہ ہونے کی امید ہے۔ باقی ماندہ یرغمالیوں کو جنگ بندی یا دیگر معاہدوں کے تحت رہا کیا جا چکا ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ وہ باقی یرغمالیوں کی رہائی فلسطینی قیدیوں کی رہائی، مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی انخلا کے بدلے میں ہی کرے گی۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ تمام یرغمالیوں کی واپسی، حماس کی شکست اور اسے جلاوطنی پر مجبور کرنے تک جنگ جاری رکھے گا۔

غزہ میں حماس کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 54,000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔ وزارت صحت یہ واضح نہیں کرتی کہ ہلاک شدگان میں عام شہری اور عسکریت پسند کی تعداد کتنی ہے۔

ادارت: کشور مصطفیٰ، رابعہ بگٹی

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے نتیجے میں ہے کہ وہ حملے کے

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم