انوکھی مثال، بیوہ ماں ملیر جیل سے مفرور قیدی بیٹے کو جیل واپس لے آئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
ملیر جیل سے فرار ہونے والے قیدیوں کی تلاش جاری ہے، مگر گزشتہ شب ایک حیران کن اور قابلِ تقلید واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایک بیوہ ماں اپنے مفرور بیٹے کو خود جیل واپس لے آئی۔ معاشرتی بدحالی اور غربت کے باوجود، اس خاتون نے قانون کی پاسداری کا ایسا مظاہرہ کیا جو ایک مثال بن گیا۔
عبداللہ گوٹھ کی رہائشی بیوہ خاتون کا بیٹا غلام حسین، جو گزشتہ شب جیل سے فرار ہوا تھا، صبح 3 بجے کے قریب گھر پہنچا۔ جب اس نے والدہ کو بتایا کہ وہ جیل سے بھاگ آیا ہے، تو ماں نے بغیر کسی تردد کے فیصلہ کیا کہ اسے دوبارہ جیل حکام کے حوالے کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: کراچی میں زلزلے کے دوران ملیر جیل میں ہنگامہ، 200 سے زائد قیدی فرار
ماں نے میڈیا کو بتایا کہ بیٹے نے آ کر کہا کہ وہ جیل سے بھاگ آیا ہے، میں نے فوراً اسے سمجھایا کہ یہ غلط ہے، اور ہم قانون کو نہیں توڑ سکتے۔
بیوہ ماں کے پاس نہ پیٹ بھر کھانے کو کچھ تھا، نہ جیب میں کرایہ۔ مگر پھر بھی، صرف قانون سے محبت اور فرض کی ادائیگی کے جذبے کے تحت وہ 2 گھنٹے پیدل چل کر بیٹے کو ملیر جیل لے گئی اور جیل حکام کے سپرد کر دیا۔
جیل ذرائع کے مطابق غلام حسین کو دوبارہ حراست میں لے لیا گیا ہے، اور اس واقعے کو دیگر مفرور قیدیوں کی تلاش کے دوران خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بیوہ ماں ملیر جیل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیوہ ماں ملیر جیل ملیر جیل بیوہ ماں جیل سے
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔