بری نظر نے ندا یاسر کے خاندان کو کیسے متاثر کیا؟ اداکارہ کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
پاکستان شوبز کی اداکارہ و میزبان ندا یاسر نے نظر بد سے متعلق اپنے تجربات شیئر کر دیے۔
حال ہی میں اداکارہ ندا یاسر نے نظرِ بد سے متعلق اپنے ذاتی تجربات بیان کیے ہیں۔ اپنی شادی کی 23ویں سالگرہ کے موقع پر ندا نے انکشاف کیا کہ اُن کے بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے بعد وہ کئی مرتبہ بیمار ہوئے، جس کی وجہ وہ نظرِ بد کو حقیقت سمجھتی ہیں۔
A post common by Nida Yasir (@itsnidayasir.
ان کا کہنا تھا کہ اب وہ سمجھ گئی ہیں کہ لوگ تصاویر شیئر کرتے وقت بچوں کے چہروں پر ایموجیز کیوں لگاتے ہیں۔ ندا نے مزید کہا کہ وہ اپنی خوشیاں دوسروں سے چھپانے کے بجائے شیئر کرنا پسند کرتی ہیں، چاہے وہ کامیابیاں ہوں یا ذاتی لمحات، کیونکہ اس سے انہیں خوشی ملتی ہے۔
پروگرام میں بطور مہمان شریک اداکارہ بینا چوہدری نے بھی اسی قسم کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شوہر کے ساتھ تصویر شیئر کرنے پر ان میں جھگڑا ہو جاتا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔