کراچی میں نوجوان پر تشدد کا کیس، 2 گرفتار ملزمان کی درخواستِ ضمانت مسترد
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے نوجوان موٹر سائیکل سوار کو تشدد کا نشانہ بنانیوالے 2 گرفتار ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی، جج جنوبی عبدالظہور چانڈیو نے سلمان فاروقی اور اویس ہاشمی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنادیا۔
ڈیفینس کے علاقے میں نوجوان سدھیر کو تشدد کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں گرفتار ملزمان بائیونک فلمز کے سربراہ سلمان فاروقی اور اویس ہاشمی کی جانب سے کراچی کی ضلعی عدالت نے گرفتار دونوں ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔
پولیس کا مؤقف تھا کہ ملزمان کیخلاف نوجوان موٹر سائیکل سوار پر تشدد، دھمکیاں دینے اور عورت کی تذلیل کے الزامات ہیں، ملزمان کے خلاف عینی شاہد شہری کی مدعیت میں تھانہ گذری میں مقدمہ درج ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں نوجوان پر تشدد کرنے والا ملزم سلمان فاروقی گرفتار
اس سے قبل کراچی میں تشدد کا نشانہ بننے والے نوجوان موٹر سائیکل سوار نے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش ہو کر اپنے کیخلاف تشدد کے ذمہ دار دونوں گرفتار ملزمان کو شناخت کرلیا ہے۔
کراچی کے علاقے ڈیفینس میں خیابان اتحاد کمرشل میں موٹر سائیکل سوار کیخلاف تشدد کیس کی سماعت میں متاثرہ نوجوان سدھیر نے دونوں ملزمان سلمان فاروقی اور اویس ہاشمی کو شناخت کرلیا ہے۔
سدھیر نے عدالت میں بیان دیا کہ اس کے علم میں نہیں تھا کہ عدالت نے اسے بلایا تھا، لیکن جب وکیل نے بتایا تو میں وہ فوراً عدالت میں پیش ہوگیا۔
مزید پڑھیں: بہنوں کے سامنے نوجوان پرتشدد کرنیوالا ملزم سلمان فاروقی گرفتار، ’یہ بس ایک فوٹو سیشن ہے‘
عدالتی استفسار پر سدھیر نے بتایا کہ اسے کسی قسم کے دباؤ کا سامنا نہیں اور وہ کسی مقدمہ بازی میں نہیں پڑنا چاہتا، سدھیر نے عدالت کو بتایا کہ اس نے ملزم سلمان فاروقی کو معاف کردیا ہے، عدالت اب اس کیس میں نامزد ملزمان کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کرے اسے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
عدالت نے نوجوان سدھیر پر تشدد میں ملوث سلمان فاروقی اور ان کے ساتھی اویس ہاشمی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجتے ہوئے تفتیشی افسر سے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اویس ہاشمی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ بائیونک فلمز تھانہ گذری خیابان اتحاد کمرشل ڈیفینس سدھیر سلمان فاروقی عبدالظہور چانڈیو عینی شاہد موٹر سائیکل سوار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اویس ہاشمی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ بائیونک فلمز تھانہ گذری خیابان اتحاد کمرشل ڈیفینس سدھیر سلمان فاروقی عینی شاہد موٹر سائیکل سوار موٹر سائیکل سوار سلمان فاروقی اور گرفتار ملزمان اویس ہاشمی کی درخواست ملزمان کی سدھیر نے تشدد کا
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔