کراچی میں دو مختلف مبینہ پولیس مقابلے، 3 زخمیوں سمیت 4 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں پولیس اور جرائم پیشہ عناصر کے درمیان دو مختلف مقامات پر مبینہ پولیس مقابلوں کے دوران تین زخمیوں سمیت چار ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
گرفتار ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر مسروقہ سامان برآمد ہوا ہے جبکہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
کورنگی انڈسٹریل ایریا میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس کے مطابق واردات کے بعد فرار ہونے والے ملزمان کو روکنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ شروع کر دی۔
جس کے جواب میں دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔ مقابلے کے دوران دو ملزمان زخمی جبکہ ایک کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، گولیاں اور دیگر قابل اعتراض سامان برآمد ہوا ہے، جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ گرفتار ملزمان کا کرمنل ریکارڈ بھی چیک کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: کراچی میں دو مبینہ پولیس مقابلوں میں 4 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
چھیپا ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والے ملزمان کی شناخت اسلم ولد نور خان (عمر 22 سال) اور راحیل ولد جمال الدین (عمر 35 سال) کے نام سے ہوئی ہے، جنہیں چھیپا ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
دوسرا مبینہ پولیس مقابلہ نارتھ کراچی سیکٹر 2 میں واقع شراب خانے کے قریب پیش آیا، جہاں اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل (AVLC) کی ٹیم نے مشتبہ موٹر سائیکل لفٹر کو روکنے کی کوشش کی۔
ملزم نے فرار ہونے کی کوشش میں فائرنگ کی، جس پر پولیس کی جوابی کارروائی میں وہ زخمی ہو گیا۔
پولیس کے مطابق، زخمی ملزم کی شناخت محمد حسن کے نام سے ہوئی ہے، جسے ابتدائی طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ملزم کے خلاف مزید تحقیقات اور اس کے ماضی کے مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ بھی کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسپتال منتقل مبینہ پولیس
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔