ڈیفنس تشدد کیس: متاثرہ نوجوان نے ملزم سلمان فاروقی کو معاف کردیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
ڈیفنس تشدد کیس: متاثرہ نوجوان نے ملزم سلمان فاروقی کو معاف کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 5 June, 2025 سب نیوز
کراچی کی جوڈیشل میجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ڈیفنس کے علاقے میں نوجوان پر تشدد سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں پولیس نے نامزد ملزمان سلمان فاروقی اور اویس ہاشمی کو عدالت میں پیش کیا۔ دوران سماعت متاثرہ نوجوان نے ملزم کو معاف کردیا۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد دونوں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم جاری کیا اور تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
سماعت کے دوران متاثرہ نوجوان سدھیر بھی عدالت میں پیش ہوا، جس نے عدالت کے روبرو ملزم کی شناخت کرتے ہوئے بیان دیا کہ مجھے علم نہیں تھا کہ عدالت نے بلایا ہے، آج وکیل کے کہنے پر پیش ہوا ہوں۔
عدالت نے سدھیر سے دریافت کیا کہ کیا اسے کسی قسم کے دباؤ یا خطرے کا سامنا ہے؟ جس پر نوجوان نے جواب دیا کہ میں کوئی کیس نہیں کرنا چاہتا، میں نے ملزم کو معاف کر دیا ہے، عدالت جو بھی فیصلہ کرے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔
عدالت نے نوجوان کا بیان ریکارڈ کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک سماعت ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں گاڑی اور موٹر سائیکل میں تصادم کے بعد کار سوار مقامی کمپنی کا سربراہ سلمان فاروقی طیش میں آگیا تھا اور موٹر سائیکل سوار شہری کو زد و کوب کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
نوجوان کے ساتھ موجود اس کی بہنیں بااثر شخص کے سامنے ہاتھ جوڑ جوڑ کر معافیاں مانگتی رہیں لیکن روتی لڑکیوں کے آنسوؤں پر بھی بااثر شخص کو ترس نہیں آیا تھا۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے ذریعے منظر عام پر آیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران،افغانستان سمیت12 ممالک کے شہریوں کی امریکا میں داخلے پر پابندی عائد ایران،افغانستان سمیت12 ممالک کے شہریوں کی امریکا میں داخلے پر پابندی عائد امریکی وزیر خارجہ کا تیانمن اسکوائر سے متعلق بیان چین پر حملہ قرار پاکستان طالبان پر عائد پابندیوں کے نفاذ کی نگرانی کرنیوالی اقوام متحدہ کی کمیٹی کا چیئرمین مقرر کے الیکٹرک کی نااہلی کو نیپرا کس طرح منافع میں تبدیل کرسکتا ہے؟ اویس لغاری طارق فاطمی کا دورہ روس کامیاب رہا، روسی وزیر خارجہ، اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں جنگ بندی پر عمل جاری ہے، ٹرمپ نے بغیر کسی شبے کے ثابت کر دیا وہ امن کے پیامبر ہیں: وزیراعظم شہباز شریفCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: متاثرہ نوجوان سلمان فاروقی نوجوان نے کو معاف
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔