بانی سے مشاورت کے بعد چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی معاملے کا جواب دیا جائے گا: بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر—فائل فوٹو
چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی سے مشاورت کے بعد چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن حکام کی تعیناتی کے معاملے کا جواب دیا جائے گا۔
’جیو نیوز‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاک بھارت کشیدگی کے دوران مجھ سے رابطہ کیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف پاکستانی افواج اور قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ بات چیت ہونی چاہیے اور بات چیت کے دروازے کھلے ہیں، ہم نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ حکومت سے کوئی رابطہ نہیں ہو گا۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی سزاؤں کی معطلی سے متعلق امید ہے کہ عید سے دو دن قبل کوئی مثبت پیشرفت ہوگی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے لیے دروازے کھلے ہیں، الیکشن کمیشن کی تعیناتی کا معاملہ ایک آئینی مسئلہ ہے، اس معاملے پر وزیرِ اعظم کا یہ دوسرا خط ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ممبران 25 فروری کو مدتِ ملازمت مکمل کر چکے، بانیٔ پی ٹی آئی سے مشاورت کے بعد اس معاملے کا جواب دیا جائے گا، اس حوالے سے تین تین نام اپوزیشن لیڈر اور وزیرِ اعظم پارلیمانی کمیٹی کو بھیجیں گے۔
بیرسٹر گوہر نے یہ بھی کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کے ناموں پر ہم نے آپس میں مشاورت بھی کی ہے، امید ہے کہ عید کے فوری بعد الیکشن کمیشن سے متعلق معاملہ مکمل ہو جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر نے پاکستان تحریک الیکشن کمیشن پی ٹی ا ئی جائے گا
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔