وزیراعظم کا ٹرمپ کو امن کا پیامبر قرار دینا ذہنی غلامی ہے، امیر جماعت اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
لاہور:
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے وزیراعظم کے بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیوں کی نسل کشی میں امریکا اسرائیل کا سرپرست ہے ایسے میں ٹرمپ کو امن کا پیامبر قرار دینا ذہنی غلامی کی انتہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا ٹرمپ کو امن کا پیامبر قرار دینا ذہنی غلامی کی انتہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا فلسطینیوں کی نسل کشی میں اسرائیل کا سرپرست ہے، امریکا بموں اور بھوک سے مرنے والے معصوم بچوں اور عورتوں کے قتل عام میں برابر کا شریک ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ شہباز شریف ٹرمپ کو امن کی چمپئن شپ کے سرٹیفیکیٹ بانٹ رہے ہیں، غلامی اور چاپلوسی اور کیا ہوتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹرمپ کو امن
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔