Express News:
2026-06-03@04:59:14 GMT

پاک امریکا تعلقات، نئے دورکا آغاز

اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکا کی مداخلت پر پاک بھارت جنگ بندی ہوئی، صدر ٹرمپ نے ثابت کیا وہ امن کے پیامبر ہیں۔

انھوں نے پاکستان اور بھارت دونوں کو تجارت، سرمایہ کاری اور جنگ بندی کی تجویز دی۔ ہم ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں پاکستان ہمیشہ خطے میں امن استحکام اور خوشحالی کا خواہشمند رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے امریکی سفارتخانے میں امریکی یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد پاکستان نے سفارتی محاذ پر بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ پاکستان کو اپنی سفارتی حکمت عملی کے باعث اقوام عالم کی اخلاقی اور سفارتی حمایت حاصل ہوئی ہے ۔

پاکستان نے جنگی محاذ پر چینی ٹیکنالوجی سے بھارت کو فوجی شکست سے دوچارکیا ، اس کے بعد سفارتی محاذ پر کامیابی یوں حاصل کی کہ امریکا کی حمایت حاصل کرلی، اب مسئلہ کشمیر کو عالمی ایجنڈے پر لانے کی پاکستان کی دیرینہ خواہش کی تکمیل بھی ہوگئی ہے۔ جموں وکشمیر جیسے بنیادی مسائل کے پائیدار حل کے لیے امریکا سمیت عالمی برادری کی مسلسل توجہ اور مداخلت ناگزیر ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جنوبی ایشیاء میں بالا دستی کا خواب چکنا چور ہوچکا ہے، گو بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ اور پالیسی جوں کی توں ہے لیکن بھارت کو حالیہ جنگ نے بہت نقصان پہنچایا ہے ۔ عالمی سطح پر بھارت کی حمایت میں کمی آئی ہے۔ داخلی طور پر مودی کو شدید سیاسی تنقید کا سامنا ہے کہ اس تنقید کا گرداب مودی کے سیاسی مستقبل کو ڈبو دے گا۔ مودی نے عالمی تنہائی سے نکلنے کے لیے ایک سفارتی مہم شروع کی ہے، جس میں کانگریس کے رہنماششی تھرور اور حیدر آباد کے مسلم سیاسی لیڈر اسد الدین اویسی شامل ہیں، لیکن پاکستان نے بھی اِس ضمن میں ایک وسیع البنیاد اور موثر سفارت کاری شروع کر رکھی ہے جس کے اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں۔

پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی تاریخی گہرائی اور وسعت بیکراں ہے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات کا آغاز 15 اگست 1947 کو اس وقت ہوا جب امریکی صدر ہیری ٹرومین نے بانی پاکستان کو ایک مخلصانہ خط کے ذریعے دوستانہ روابط کی بنیاد رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اب پاک امریکا تعلقات کا نیا دور مضبوط اقتصادی تعاون سے عبارت ہے۔ امریکا اور پاکستان کے درمیان تزویراتی شراکت داری باہمی مفادات اور خطے کے استحکام پر مبنی ہوگی۔

صدر ٹرمپ نے نہ صرف ایپل کمپنی کو بھارت میں سرمایہ کاری سے روک دیا بلکہ ہدایت کی کہ وہ امریکا میں صنعت لگائے تاکہ مقامی معیشت کو فروغ ملے۔ اس کے برعکس انھوں نے پاکستان کے ساتھ کاروباری تعلقات بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا اور پاکستانی قوم کی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ امریکی صدر پاکستانی فوج کی پیشہ ورانہ مہارت، امن کے قیام میں کردار اور بین الاقوامی امور میں متوازن رویے کو سراہ رہا ہے۔

افغان امن عمل میں پاکستان کی کوششوں کو واشنگٹن میں بھی تحسین کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے یہ اعتراف بھی کیا کہ ’’ پاکستان ایک اہم جغرافیائی اور اسٹرٹیجک پارٹنر ہے جس کے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔‘‘ یہ بیانات محض وقتی سیاسی تقاریر نہیں بلکہ ان کے پیچھے عالمی سیاسی منظر نامے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیاں کارفرما ہیں۔

بھارت کی داخلی انتہا پسند پالیسیوں، مذہبی اقلیتوں کے خلاف جارحیت اور پڑوسی ممالک کے ساتھ کشیدگی نے امریکا کو مجبورکیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں توازن قائم رکھنے کے لیے پاکستان کو دوبارہ سنجیدگی سے لے۔ اسی طرح پاکستانی سیاسی قیادت کو بھی مثبت انداز میں پیش کیا گیا، جو ایک طویل عرصے کے بعد کسی امریکی صدرکی جانب سے پذیرائی کا مظہر ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کی جمہوری، عسکری اور سفارتی قیادت بین الاقوامی برادری کو اعتماد میں لینے میں کامیاب ہو رہی ہے۔

 ٹرمپ کی طرف سے پاکستانی مصنوعات کی تعریف نہ صرف ہماری صنعت کے لیے اعزاز ہے بلکہ یہ ایک اقتصادی موقع بھی ہے جس سے فائدہ اٹھانا ہماری حکومتی اور نجی شعبے کی ذمے داری ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’ پاکستانی صنعت کار اور کاریگر اپنی محنت، خلوص اور معیار سے دنیا میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔‘‘ یہ جملہ عالمی برادری میں پاکستان کے اقتصادی امیج کو ایک نیا رنگ دیتا ہے۔

پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری، جو برآمدات کا سب سے بڑا شعبہ ہے، آج امریکا، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں انتہائی مقبول ہے۔ ہماری کاٹن، بیڈ شیٹس، ہوم ٹیکسٹائل اور اسپورٹس ویئر کی وہ اقسام جو فیصل آباد،کراچی اور لاہور میں بنتی ہیں، بین الاقوامی معیار پر پورا اترتی ہیں۔ سیالکوٹ کے سرجیکل آلات،گوجرانوالہ اور وزیرآباد کی کٹلری اور پاکستان کا اسپورٹس سامان، یہ سب امریکا اور یورپ کی بڑی بڑی کمپنیوں کے لیے معیار کی علامت بن چکے ہیں۔ پاکستان کے آم، کینو، باسمتی چاول اور مصالحہ جات بھی امریکی منڈیوں میں پسند کیے جاتے ہیں۔

 اگر تجارتی تعلقات میں بہتری آتی ہے تو پاکستانی برآمدات کو امریکا میں نئی راہیں مل سکتی ہیں، جس سے معیشت کو غیر معمولی سہارا ملے گا۔ ثقافتی تبادلے، تعلیمی وظائف، تحقیقاتی اشتراک اور IT کے میدان میں باہمی تعاون کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں، اگر پاکستان اپنے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم، ٹیکنالوجی اور مہارت میں خود کفیل بنانے پر توجہ دے تو امریکا جیسی بڑی منڈی پاکستان کے لیے معاشی انقلاب کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات صرف وقتی مفادات یا سیاسی شعبدہ بازی نہیں بلکہ بین الاقوامی سفارت کاری میں بدلتے رجحانات کا پتہ دیتے ہیں۔ امریکا اگر بھارت سے مایوس ہو کر پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے تو یہ ہماری کارکردگی کا نتیجہ ہے اور ہمیں اس پر شکر گزار ہونے کے ساتھ ساتھ سنجیدہ بھی ہونا ہوگا۔ یہ وقت ہے کہ پاکستان اپنے قومی مفاد کو ہر معاملے میں مقدم رکھے، دوستیاں کرے مگر عزت و وقار کے ساتھ۔ اعتماد کی جو شمع دوبارہ روشن ہو رہی ہے، اسے حکمت، وقار اور مستقل مزاجی کے ساتھ فروغ دینا ہی ہماری کامیابی کی ضمانت ہے۔ پاکستان اب دنیا کے نقشے پر ایک مؤثر، باعزت اور فیصلہ کن طاقت کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہی پیغام ہمیں دنیا کو دینا ہے۔

 امریکا کی اس نئی سوچ کا جواب پاکستان کو نہایت دانشمندی اور بالغ نظری سے دینا ہو گا۔ ہمیں داخلی استحکام، ادارہ جاتی مضبوطی، شفافیت اور بدعنوانی کے خلاف عملی اقدامات کے ذریعے ایک قابلِ بھروسہ ریاست کا تاثر قائم رکھنا ہوگا۔ صرف یہی نہیں بلکہ ہمیں بین الاقوامی سطح پر اپنی سفارتی ٹیموں کو فعال بنانا ہوگا تاکہ یہ موجودہ موقع کو دیرپا مفاد میں بدل سکیں۔

دونوں ممالک کے درمیان انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون کو مزید بہتر بنایا جائے گا، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف قربانیاں دیں بلکہ ملکی معیشت اور عوام کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا ۔ اس وقت دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے یہ رابطہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کا غماز ہے اور آیندہ دنوں میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو ایک نئی سمت دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

 بلاشبہ پاکستان نے اپنی کامیاب حکمت عملی سے جنگی اور سفارتی محاذ پر بے پناہ کامیابی حاصل کی ہے حکومت اب داخلی سطح پر اکانومی کو بہتر بنانے کے لیے سرگرداں ہے اور اِس ضمن میں اگلے مالی سال کے بجٹ کی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں۔ عید کی چھٹیوں کے فوری بعد بجٹ پیش کیاجائے گا لیکن لگتا ہے کہ حکومت بہت سے ترقیاتی فیصلوں کو موخر کرے گی جب کہ عالمی مالیاتی اداروں کی توقعات سے بڑھ کر جی ڈی پی کی شرح افزائش کا ہدف مقرر کیا جا رہا ہے۔اب دیکھنا ہے کہ حکومت اپنے معاشی اہداف کے لیے بجٹ میں کیا پالیسیاں اپناتی ہے۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان سے متعلق حالیہ پالیسی، بیانات اور اشارے ایک ایسے نئے دورکی شروعات کا پتہ دے رہے ہیں جس میں پاکستان کو محض ایک ضمنی کردار نہیں بلکہ ایک حقیقی شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں کو نہ دہراتے ہوئے مستقبل کی جانب اعتماد کے ساتھ بڑھیں۔سی پیک کی صورت میں پاکستان پہلے ہی چین کے ساتھ ایک مضبوط اقتصادی راستہ اختیار کر چکا ہے، اب اگر امریکا کے ساتھ بھی معاشی تعلقات بہتر ہو جاتے ہیں تو پاکستان کے لیے ایشیا کے مرکز میں ایک ’’بزنس حب‘‘ بننے کے امکانات مزید روشن ہو جائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی دہشت گردی کے میں پاکستان پاکستان کو پاکستان کی امریکی صدر پاکستان کے پاکستان نے نہیں بلکہ کا اظہار کے خلاف کے ساتھ کے لیے رہا ہے ہے اور

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے