سندھ: سال 2025-26 کیلئے نویں کی بنیاد پر کالجوں میں داخلے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
محکمہ کالج ایجوکیشن نے سندھ الیکٹرانک سینٹرلائزڈ کالج ایڈمیشن پروگرام کے تحت سرکاری کالجوں میں سیشن 2025-26 کے لیے نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر گیارہویں میں داخلوں کی منظوری دے دی ہے۔
اس سے متعلق جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق داخلے 15 جون 2025ء سے آن لائن شروع ہوں گے اور امیدواروں سے ویب سائٹ seccap.
آن لائن درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جولائی 2025ء ہوگی۔ 22 جولائی 2025ء تک کالجوں میں داخلوں کے لیے تمام فیکلٹیز کی پلیسمنٹ فہرستوں کا اجراء کردیا جائے گا جبکہ بارہویں جماعت کے لیے کالجوں میں کلاسز کا آغاز یکم اگست 2025ء سے ہوگا۔
کراچی سندھ کے تعلیمی بورڈز کی جانب سے میٹرک کے...
کالج زون سسٹم اس سال کراچی ریجن میں جاری رکھا جائے گا جس سے طلبہ اپنے قریبی کالجوں میں داخلہ لے سکیں گے۔ صرف +A اور A گریڈ والے طلبہ ہی کسی بھی کالج میں داخلہ لینے کا انتخاب کریں گے۔ بی، سی، ڈی اور ای گریڈ والے طلبہ اپنے متعلقہ زون میں درخواست دیں گے۔
ریجنل ڈائریکٹر کالجز کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، شہید بینظیر آباد، سکھر اور لاڑکانہ اپنے اپنے علاقوں میں طلبہ کے داخلوں کے ذمہ دار ہوں گے۔
ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ صوبے میں داخلے کے مجموعی عمل کی نگرانی کریں گے۔ داخلے 9ویں کلاس/او لیول پارٹ 1 گریڈ کے نتائج پر مبنی ہوں گے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کالجز کا آئی ٹی سیکشن چیئرمین SECCAP کمیٹی 2025-2026 کی منظوری کے بعد فیکلٹی اور صنفی لحاظ سے طلبہ کی پلیسمنٹ لسٹ جاری کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔
طلبہ کی شکایات (اگر کوئی ہیں) کو دور کرنے کے لیے تقرری کی فہرستیں جاری کرنے کے بعد طلباء اور طالبات کے لیے کئی کلیم سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔ کوئی بھی طالب علم جو پہلے H.Sc/F.Sc میں داخل ہوا تھا اور موجودہ سال میں دوبارہ داخلہ لینے کے خواہشمندوں کو پہلے متعلقہ بورڈ کے ساتھ اپنے پہلے کے اندراج کو منسوخ کرنا ہوگا، ساتھ ہی SECCAP پورٹل پر اپنا داخلہ منسوخ کرنا ہوگا۔
اس عمل کو مکمل کرنے کے بعد ہی، وہ تعلیمی سیشن 2025-26 کے لیے SECCAP کے ذریعے آن لائن داخلے کے لیے دوبارہ درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔ 5 سال سے زیادہ وقفے والے امیدوار 2025-26 کے تعلیمی سیشن میں داخلے کے لیے نااہل ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کالجوں میں کے لیے ہوں گے
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک