محکمہ کالج ایجوکیشن نے سندھ الیکٹرانک سینٹرلائزڈ کالج ایڈمیشن پروگرام کے تحت سرکاری کالجوں میں سیشن 2025-26 کے لیے نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر گیارہویں میں داخلوں کی منظوری دے دی ہے۔

اس سے متعلق جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق داخلے 15 جون 2025ء سے آن لائن شروع ہوں گے اور امیدواروں سے ویب سائٹ seccap.

dgcs.gos.pk پر درخواستیں وصول کی جائیں گی۔ 

آن لائن درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جولائی 2025ء ہوگی۔ 22 جولائی 2025ء تک کالجوں میں داخلوں کے لیے تمام فیکلٹیز کی پلیسمنٹ فہرستوں کا اجراء کردیا جائے گا جبکہ بارہویں جماعت کے لیے کالجوں میں کلاسز کا آغاز یکم اگست 2025ء سے ہوگا۔

کالجز میں انٹر سال اول کے داخلے نویں کی بنیاد پر یکم جولائی سے ہونگے

کراچی سندھ کے تعلیمی بورڈز کی جانب سے میٹرک کے...

کالج زون سسٹم اس سال کراچی ریجن میں جاری رکھا جائے گا جس سے طلبہ اپنے قریبی کالجوں میں داخلہ لے سکیں گے۔ صرف +A اور A گریڈ والے طلبہ ہی کسی بھی کالج میں داخلہ لینے کا انتخاب کریں گے۔ بی، سی، ڈی اور ای گریڈ والے طلبہ اپنے متعلقہ زون میں درخواست دیں گے۔ 

ریجنل ڈائریکٹر کالجز کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، شہید بینظیر آباد، سکھر اور لاڑکانہ اپنے اپنے علاقوں میں طلبہ کے داخلوں کے ذمہ دار ہوں گے۔ 

ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ صوبے میں داخلے کے مجموعی عمل کی نگرانی کریں گے۔ داخلے 9ویں کلاس/او لیول پارٹ 1 گریڈ کے نتائج پر مبنی ہوں گے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کالجز کا آئی ٹی سیکشن چیئرمین SECCAP کمیٹی 2025-2026 کی منظوری کے بعد فیکلٹی اور صنفی لحاظ سے طلبہ کی پلیسمنٹ لسٹ جاری کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ 

طلبہ کی شکایات (اگر کوئی ہیں) کو دور کرنے کے لیے تقرری کی فہرستیں جاری کرنے کے بعد طلباء اور طالبات کے لیے کئی کلیم سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔ کوئی بھی طالب علم جو پہلے H.Sc/F.Sc میں داخل ہوا تھا اور موجودہ سال میں دوبارہ داخلہ لینے کے خواہشمندوں کو پہلے متعلقہ بورڈ کے ساتھ اپنے پہلے کے اندراج کو منسوخ کرنا ہوگا، ساتھ ہی SECCAP پورٹل پر اپنا داخلہ منسوخ کرنا ہوگا۔ 

اس عمل کو مکمل کرنے کے بعد ہی، وہ تعلیمی سیشن 2025-26 کے لیے SECCAP کے ذریعے آن لائن داخلے کے لیے دوبارہ درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔ 5 سال سے زیادہ وقفے والے امیدوار 2025-26 کے تعلیمی سیشن میں داخلے کے لیے نااہل ہوں گے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کالجوں میں کے لیے ہوں گے

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری