انجمن طلبہ اسلام کے زیراہتمام پری بجٹ ایجوکیشنل سیمینار کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
مقررین نے کہا کہ تعلیم حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں، ہر سال مختص تعلیمی بجٹ میں بھی کمی کرکے تعلیم دشمنی کا ثبوت دیا جاتا ہے، جامعات کی خود مختاری، طلباء کی فیسوں، نئی پی ایچ ڈی پالیسی کے مسائل جوں کے توں ہیں، حکومت تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تعلیمی پالیسیاں ترتیب دے۔ اسلام ٹائمز۔ انجمن طلبہ اسلام کے مرکزی صدر مبشر حسین نے پری بجٹ ایجوکیشنل سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے روایتی اور تعلیم دشمن بجٹ پیش کیا تو طلبہ برادری کو سٹرکوں پر لے آئیں گے۔ ملک میں بڑھتے ہوئے تعلیمی مسائل سے نمٹنے کیلئے بجٹ میں تعلیم کیلئے مجموعی بجٹ کا کم ازکم 5 فیصد مختص کیا جائے جبکہ تعلیمی بجٹ کا پچیس فیصد اعلیٰ تعلیم کیلئے مختص کیا جائے۔ حکومتوں سے نوجوان نسل مایوس ہو چکی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں تعلیم دوست بجٹ پیش کریں۔ لاکھوں طلباء کے مستقبل سے کھیلنے کا گھناؤنا کھیل بند ہونا چاہیے۔ اعلی تعلیمی بجٹ میں 5.
انہوں نے کہا مجموعی بجٹ کا 5فیصد تعلیم کیلئے مختص کیا جائے۔ مجموعی بجٹ میں اعلی تعلیم کیلئے 150 بلین مختص کئے جائیں، ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کے فنڈز میں کٹوتی نہ کی جائے، گزشتہ پانچ برس سے اعلی تعلیم کا بجٹ 65 ارب سے نہیں بڑھ رہا جسے فی الفور بڑھایا جائے، جامعات کے اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، صوبائی سطح پر تمام صوبہ جات میں سٹوڈنٹس کونسلنگ سینٹرز قائم کئے جائیں، نئی جامعات کی بجائے فی الوقت موجود جامعات میں تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جائے، یونیورسٹی سنڈیکیٹ میں طلباء کی نمائندگی یقینی بنائی جائے، بلوچستان کے پی کے سندھ سمیت جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں کی جامعات کو بجٹ میں خصوصی اہمیت دی جائے۔
پری بجٹ سیمینار سے ممتاز ماہر تعلیم محمد مرتضی نور، ماہر قانون سید جوادالحسن کاظمی ایڈووکیٹ، مختلف طلبہ تنظیموں، یوتھ جماعتوں کے نمائندوں سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ تعلیم حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں، ہر سال مختص تعلیمی بجٹ میں بھی کمی کرکے تعلیم دشمنی کا ثبوت دیا جاتا ہے، جامعات کی خود مختاری، طلباء کی فیسوں، نئی پی ایچ ڈی پالیسی کے مسائل جوں کے توں ہیں، حکومت تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تعلیمی پالیسیاں ترتیب دے تاکہ پاکستان کا تعلیمی نظام مستحکم ہو سکے، یکساں نصاب اور نظام بھی ادھورا خواب ہے، شرکاء سیمینار نے مطالبہ کیا کہ سی ایس ایس پی ایم ایس سمیت تمام امتحانات کو اردو میں منعقد کیا جائے، شرکاء نے مطالبات نہ منظور ہونے کی صورت میں ملک گیر احتجاجی تحریک کا عندیہ بھی دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تعلیم کیلئے تعلیمی بجٹ کیا جائے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔