مقررین نے کہا کہ تعلیم حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں، ہر سال مختص تعلیمی بجٹ میں بھی کمی کرکے تعلیم دشمنی کا ثبوت دیا جاتا ہے، جامعات کی خود مختاری، طلباء کی فیسوں، نئی پی ایچ ڈی پالیسی کے مسائل جوں کے توں ہیں، حکومت تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تعلیمی پالیسیاں ترتیب دے۔ اسلام ٹائمز۔ انجمن طلبہ اسلام کے مرکزی صدر مبشر حسین نے پری بجٹ ایجوکیشنل سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے روایتی اور تعلیم دشمن بجٹ پیش کیا تو طلبہ برادری کو سٹرکوں پر لے آئیں گے۔ ملک میں بڑھتے ہوئے تعلیمی مسائل سے نمٹنے کیلئے بجٹ میں تعلیم کیلئے مجموعی بجٹ کا کم ازکم 5 فیصد مختص کیا جائے جبکہ تعلیمی بجٹ کا پچیس فیصد اعلیٰ تعلیم کیلئے مختص کیا جائے۔ حکومتوں سے نوجوان نسل مایوس ہو چکی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں تعلیم دوست بجٹ پیش کریں۔ لاکھوں طلباء کے مستقبل سے کھیلنے کا گھناؤنا کھیل بند ہونا چاہیے۔ اعلی تعلیمی بجٹ میں 5.

90 ارب کی کٹ لگانے والے تعلیم کے دشمن ہیں۔ تعلیم حکمرانوں کی ترجیحات میں سرے سے شامل ہی نہیں۔

انہوں نے کہا مجموعی بجٹ کا 5فیصد تعلیم کیلئے مختص کیا جائے۔ مجموعی بجٹ میں اعلی تعلیم کیلئے 150 بلین مختص کئے جائیں، ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کے فنڈز میں کٹوتی نہ کی جائے، گزشتہ پانچ برس سے اعلی تعلیم کا بجٹ 65 ارب سے نہیں بڑھ رہا جسے فی الفور بڑھایا جائے، جامعات کے اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، صوبائی سطح پر تمام صوبہ جات میں سٹوڈنٹس کونسلنگ سینٹرز قائم کئے جائیں، نئی جامعات کی بجائے فی الوقت موجود جامعات میں تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جائے، یونیورسٹی سنڈیکیٹ میں طلباء کی نمائندگی یقینی بنائی جائے، بلوچستان کے پی کے سندھ سمیت جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں کی جامعات کو بجٹ میں خصوصی اہمیت دی جائے۔

پری بجٹ سیمینار سے ممتاز ماہر تعلیم محمد مرتضی نور، ماہر قانون سید جوادالحسن کاظمی ایڈووکیٹ، مختلف طلبہ تنظیموں، یوتھ جماعتوں کے نمائندوں سمیت دیگر اہم  شخصیات نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ تعلیم حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں، ہر سال مختص تعلیمی بجٹ میں بھی کمی کرکے تعلیم دشمنی کا ثبوت دیا جاتا ہے، جامعات کی خود مختاری، طلباء کی فیسوں، نئی پی ایچ ڈی پالیسی کے مسائل جوں کے توں ہیں، حکومت تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تعلیمی پالیسیاں ترتیب دے تاکہ پاکستان کا تعلیمی نظام مستحکم ہو سکے، یکساں نصاب اور نظام بھی ادھورا خواب ہے، شرکاء سیمینار نے مطالبہ کیا کہ سی ایس ایس پی ایم ایس سمیت تمام امتحانات کو اردو میں منعقد کیا جائے، شرکاء نے مطالبات نہ منظور ہونے کی صورت میں ملک گیر احتجاجی تحریک کا عندیہ بھی دیا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تعلیم کیلئے تعلیمی بجٹ کیا جائے

پڑھیں:

نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد

اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم  اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔

 اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ  گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔

رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ  معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔

مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔

فٹبال ٹورنامنٹ  کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

  فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔

قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز  کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے  ورلڈ سمر  اسپیشل گیمز  تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔

 نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے  ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔

نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی