عیدالاضحیٰ کے دوسرے دن بھی جانوروں کی قربانی جاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, June 2025 GMT
— فائل فوٹو
ملک بھر میں عیدالاضحیٰ کے دوسرے دن بھی سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کی جارہی ہے۔
مختلف شہروں میں عیدالاضحیٰ کا دوسرا دن بھی مذہبی جوش و جذبے سے منایا جارہا ہے۔
اس موقع پر جانوروں کی آلائشیں اٹھانے کا کام بھی جاری ہے جبکہ مختلف شہروں میں اس حوالے سے شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
ماہرینِ صحت نے مشورہ دیا ہے کہ عیدِ قرباں پر مزے مزے کے کھانے ضرور کھائیں مگر ہاتھ ذرا ہلکا رکھیں۔
مختلف علاقوں میں شہری چھوٹے اور بڑے جانور قربان کر رہے ہیں جبکہ عید کے موقع پر کئی شہروں میں عید میلے بھی لگے ہوئے ہیں۔
ان میلوں میں بچے اونٹ، تانگے کی سواری اور جھولوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب ماہرینِ صحت نے مشورہ دیا ہے کہ عیدِ قرباں پر مزے مزے کے کھانے ضرور کھائیں مگر ہاتھ ذرا ہلکا رکھیں۔ شوگر، بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور دل کے مریض خصوصی احتیاط کریں اور کلیجی، گردے، مغز اور پائے کھانے سے تھوڑا پرہیز کریں۔
ماہرینِ صحت نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ شہری گھی، تیل اور تیز مسالوں سے بھی ذرا فاصلہ رکھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
جزوی لاک ڈاون، وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کی منظوری دیدی
کیبنٹ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق تمام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیاں اور دیگر کمرشل تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گے۔ اسی طرح ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور سبزی فروشوں کی دکانوں کے لیے رات 11 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم نے ملک بھر میں توانائی بچت مہم کے تحت کاروباری مراکز کی بندش کے نئے اوقات کار کی منظوری دے دی۔ کیبنٹ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق تمام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیاں اور دیگر کمرشل تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گے۔ اسی طرح ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور سبزی فروشوں کی دکانوں کے لیے رات 11 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہوگی، جس کے بعد انہیں بھی بند کرنا ہوگا۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ میڈیکل اسٹورز، آئی ٹی کمپنیاں، تندور، جمز اور فیول اسٹیشنز پر ان اوقات کار کی پابندی لاگو نہیں ہوگی اور وہ حسبِ معمول کام جاری رکھ سکیں گے۔ وفاقی حکومت نے تمام صوبائی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ توانائی کے استعمال میں کمی اور بجلی کی بچت کے قومی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔