data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 اسرائیلی فوج نے غزہ آنے والی عالمی امدادی کشتی کو بھی نہ بخشا، اسرائیلی بحری فوج نے میڈیلین کو کھلے سمندر میں قبضے میں لے لیا جبکہ جہاز پر سوار افراد کو بھی حراست میں لے لیا۔

اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے صہیونی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ سمیت 12 امدادی کارکنوں کو لے کر غزہ جانے والی امدادی کشتی ’مدلین‘ کو روک دے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا کہ انہوں نے فوج کو واضح ہدایت دی ہے کہ وہ ’مدلین‘ فلوٹیلا کو فلسطینی علاقے تک پہنچنے سے روکیں۔

اس موقع پر کاٹز نے گریٹا تھنبرگ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ یہود دشمنی کا اظہار کرتی ہے اور اس کے ساتھ موجود افراد حماس کے پروپیگنڈا کے ترجمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ان سے صاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ واپس چلی جاؤ، تمہیں غزہ تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب مدلین کے منتظمین نے ہفتے کے روز ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ کشتی مصری پانیوں میں داخل ہو چکی ہے اور غزہ کے قریب پہنچ رہی ہے، جہاں اسرائیل اور حماس کے درمیان کشیدگی 21ویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔

اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے واضح کیا ہے کہ غزہ کی بحری ناکہ بندی کو کسی صورت بھی توڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بندش حماس کو ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کے لیے ضروری ہے، کیونکہ حماس ہمارے یرغمالیوں کو قید میں رکھے ہوئے ہے اور سنگین جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔

کاٹز نے مزید کہا کہ اسرائیل سمندر، ہوا یا زمین کے راستے ناکہ بندی کو توڑنے یا دہشت گرد تنظیموں کی مدد کرنے کی کسی بھی کوشش کا سختی سے مقابلہ کرے گا اور اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔

 یاد رہے کہ مدلین نامی یہ کشتی فریڈم فلوٹیلا کولیشن کی جانب سے چلائی جا رہی ہے، جو یکم جون کو اٹلی سے روانہ ہوئی تھی۔ اس کا مقصد انسانی ہمدردی کے تحت امداد پہنچانا اور اسرائیل کی فلسطینی علاقے پر عائد سخت ناکہ بندی کو چیلنج کرنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کاٹز نے کہا کہ

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں