مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل نہ ہوا تو خطہ ایٹمی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے: سلیم بٹ WhatsAppFacebookTwitter 0 10 June, 2025 سب نیوز

اسلام آباد:بھارت اور پاکستان برصغیر پاک و ہند کو ہیرو شیما بننے سے روکیں دونوں ملکوں نے عالمی برادری کے تعاون سےفوری مسئلہ کشمیر کاپائیدار حل نہ نکالا تو خطے میں ایٹمی جنگ کے خطرات کو روکنا مشکل ہو گا ۔ان خیالات کا اظہار جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سینئر رہنما سلیم بٹ نے پاک بھارت جنگ بندی کے بعد بھارتی سیاست دانوں اور میڈیا کے تلخ و ترش لہجے اور تبصروں پر اظہار خیال کرتے ہو ئے کیا ۔
انہوں نے پریس کے نمائندوں کو مسئلہ کشمیر کے پر امن حل پر بریفنگ دیتے ہوے کہا کہ جموں کشمیر کا مسئلہ ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ مسئلہ ہے اور عالمی برادری اسے کسی بھی لمحے اپنی توجہ کا مرکز بنا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا جموں کشمیر کی سر زمین ایک سیز فائر لاین کے زریعے تقسیم ہے جس کے فوری ختم ہونے اور کشمیر کے لوگوں کو أزادانہ طور پر آپس میں ملنے سے کشمیریوں کے 78 سال سے ٹوٹے ہوئے رشتے بحال ہو سکتے ہیں ۔
سلیم بٹ نے کہا مسلہ کشمیر کا حل دونوں ملکوں اور کشمیریوں کے مابین مرحلہ وار مزاکرات اور عملی اقدامات کے زریعے حل ہونے کے امقانات موجود ہیں ۔
انہوں نے کہا اگر مسئلہ کشمیر کے پر امن اور پائیدار حل جو بھارت پاکستان اور جموں کشمیر کے لوگوں کے مفاد میں ہو پر بھارت پاکستان اور عالمی برادری نے توجہ نہ دی تو دونوں ایٹمی ملکوں کے مابین ایک خطرناک جنگ چھڑ سکتی ہے جو دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے ۔
فرنٹ کے رہنما نے کہا کہ ہم ایک آزاد میڈیا کی وساطت سے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ پاک بھارت جنگ بندی کے بعد مسلہ کشمیر جنوبی ایشیا میں ایک ایٹمی خطرے کا سائرن ہے اور اس کے ابرومندانہ مندانہ حل پر فوری عالمی توجہ کی ضرورت ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد ہائیکورٹ کی کارکردگی؛ سب سے زیادہ کیسز نمٹانے والے ججز کی فہرست سامنے آگئی باغ: ”پاکستان زندہ باد ریلی“ بھارت کے خلاف شاندار فتح پر پاک افواج کو مبارکباد عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے، سلیم بٹ کا مطالبہ ہمارے شاہینوں نے بھارت کو اس کی دہلیز کے اندر گھس کر مارا ہے،وزیراعظم آزاد کشمیر کوٹلی میں پیپلز پارٹی کی پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تاریخی ریلی پاک فوج نے بھارت کومنہ توڑ جواب دے کرمودی کے خواب چکناچورکردیے،سردارکامران ایوب مسئلہ کشمیر کا پرامن حل پاک بھارت امن کی ضمانت ہے، سلیم بٹ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: مسئلہ کشمیر کا عالمی برادری کشمیر کے سلیم بٹ نے کہا

پڑھیں:

آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔

بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا