فوجی اور آبی جارحیت پر عالمی برادری بھارت کا محاسبہ کرے،بلاول بھٹو زرداری
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن: پاکستانی سفارتی مشن اور پارلیمانی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو نے عالمی برادری سے بھارت کے محاسبے کا مطالبہ کردیا۔
پاکستان کے پارلیمانی وفد کی لندن میں قائم چیٹھم ہاوٴس آمد ہوئی جہاں بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میںپاکستان کے پارلیمانی وفد کی لندن میں قائم چیٹھم ہاوٴس میں برطانوی تھنک ٹینک اور پالیسی سازوں سے اہم ملاقات کی۔ بلاول بھٹو زرداری اور دیگر ارکان نے جنوبی ایشیا میں حالیہ کشیدگی پر پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا جبکہ وفد نے بھارت کی بلا اشتعال فوجی جارحیت اور آبی دہشت گردی پر تشویش کا اظہار کیا۔
اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت کی بلا اشتعال فوجی جارحیت علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے، بھارت کے اقدامات پاکستان کی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ کومعطل کرنے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ پانی کو ہتھیار بنانا بین الاقوامی اصولوں کو مجروح اور ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے، عالمی برادری تشویشناک پیش رفت کا نوٹس لے اور بھارت کے اقدامات کا محاسبہ کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیرکا تنازع خطے کے پائیدار امن اور استحکام میں بنیادی رکاوٹ ہے، عالمی برادری بامعنی مذاکرات کی حمایت کرے اور بین الاقوامی وعدوں اور انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری عالمی برادری
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔