پاکستانی حجاج کرام کی وطن واپسی کا آپریشن کل سے شروع ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
— فائل فوٹو
پاکستانی حجاج کرام کی وطن واپسی کا آپریشن کل سے شروع ہوگا۔
منیجر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ آفتاب گیلانی نے کہا ہے کہ پوسٹ حج آپریشن 11 جون سے شروع ہوگا، پہلی حج پرواز صبح 3 بجے جدہ سے اسلام آباد پہنچے گی۔
آفتاب گیلانی نے کہا ہے کہ پہلی پرواز سے 307 حجاج کرام وطن واپس پہنچیں گے اور پوسٹ حج آپریشن 10 جولائی تک جاری رہے گا۔
ڈاکٹر امان اللہ اچکزئی’’حج ‘‘اسلامی عبادات.
ان کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے بعد مدینہ منورہ سے بھی اسلام آباد واپسی کی پروازیں آئیں گی، آپریشن میں 30 ہزار سے زائد حجاج اسلام آباد واپس پہنچیں گے۔
آفتاب گیلانی کا کہنا ہے کہ پوسٹ حج آپریشن کےلیے اسلام آباد ایئرپورٹ پر تمام انتظامات مکمل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔