پاک چین دوستی نئی بلندیوں کو چھو گئی، پاکستان اور چین کے درمیان جدید ترین دفاعی ساز و سامان کی خریداری کا بڑا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ امریکی ویب سائٹ ”بلوم برگ“ کے مطابق معاہدے کے تحت پاکستان چین سے چالیس ففتھ جنریشن جے-35 اسٹیلتھ فائٹر طیارے، کے جے-500 اواکس طیارے اور ایچ کیو-19 میزائل ڈیفنس سسٹم حاصل کرے گا۔

جے-35 اسٹیلتھ فائٹر طیارہ چین کی معروف دفاعی کمپنی شنیانگ ایئر کرافٹ کارپوریشن کا تیار کردہ ہے، اور یہ عالمی سطح پر اس طیارے کی پہلی برآمد ہو گی۔ ماہرین کے مطابق یہ طیارے ”خاموش قاتل“ کی شہرت رکھتے ہیں اور فضاؤں پر بلا شرکت غیرے حکمرانی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

معاہدے کے اعلان کے بعد چینی دفاعی شعبے میں غیرمعمولی جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ شنیانگ ایئر کرافٹ کارپوریشن کے شیئرز کی قیمت میں 10 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ دیگر چینی دفاعی کمپنیوں کے شیئرز میں بھی 15 فیصد تک کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

معاہدے کے تحت پاکستان کا دفاعی نظام مزید ناقابل تسخیر بنے گا، جب کہ پاک فضائیہ کی فضاؤں پر گرفت اور خطے میں اس کی برتری میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔ دفاعی ماہرین اس معاہدے کو پاک چین اسٹریٹیجک شراکت داری کی نئی جہت قرار دے رہے ہیں۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل