یہ رجیم چینج کہاں سے آئی، یہ آپ سب کو معلوم ہے‘اسد قیصر
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
صوابی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 10 جون2025ء)مرکزی رہنما پاکستان تحریک انصاف و سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سلیم خان، صوابی میں واقع دینی درسگاہ جواہر الاسلام کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ یہ رجیم چینج کہاں سے آئی، یہ آپ سب کو معلوم ہے۔ اگر پوری دنیا پی ٹی آئی کے بانی کے خلاف ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے اسلاموفوبیا کے خلاف جرات مندانہ آواز اٹھائی۔
انہوں نے اقوامِ متحدہ میں مسلمانوں کا مقدمہ پوری قوت سے پیش کیا اور دنیا کو بتایا کہ جب حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے تو پوری امتِ مسلمہ کو دکھ پہنچتا ہے۔ انہی کی کوششوں سے پہلی بار یہ اصول تسلیم کیا گیا کہ ایسی گستاخی آزادی اظہار کے دائرے میں نہیں آتی۔اسد قیصر نے کہا کہ 2022 میں جب امریکا نے افغانستان کے خلاف نئے اڈوں کی بات کی تو بانی نے واضح الفاظ میں کہا: ''Absolutely not''۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی بالکل واضح ہے کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے، نہ ہم کسی دوسرے ملک میں مداخلت کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو اپنے معاملات میں مداخلت کی اجازت دیتے ہیں۔ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے اور دنیا کو اس کی خودمختاری کا احترام کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی ضمیر کے قیدی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم جو تحریک شروع کر رہے ہیں اس کا مقصد پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی، پارلیمان کی خودمختاری اور بے گناہ سیاسی قیدیوں کی رہائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ مفلوج ہو چکی ہے اور پارلیمان میں وہ نمائندے نہیں بیٹھے جو عوام کا اصل مینڈیٹ رکھتے ہوں۔ ووٹ کسی اور کو پڑتا ہے اور جیت کسی اور کی ہوتی ہے۔ انہوں نے علمائے کرام سے اپیل کی کہ وہ ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے اس ناانصافی کے خلاف ہماری جدوجہد کا ساتھ دیں اورخان کی رہائی کے لیے مل کر کوشش کریں۔ ہم اس ملک کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں اور مدینہ کی ریاست ہمارے منشور کا اہم ترین جزو ہے۔اس موقع پر مدرسہ جواہر الاسلام کے مہتمم نے کہا کہ تحریک انصاف کا منشور کہ پاکستان ایک اسلامی و مذہبی ریاست ہو، ہم اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ بانی کی رہائی کے لیے نہ صرف ہم بلکہ پوری قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہم اسلام کی خدمت اور ملک کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے قائد شیخ القرآن مولانا طیب ، اسد قیصر کے خصوصی ساتھی ہیں اور ہم عمران خان اور ان کی سلامتی کے لیے دعاگو ہیں۔۔۔۔ اعجاز خان.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے کہا کہ انہوں نے کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :