لاس اینجلس میں امیگریشن اور سیکیورٹی اہلکاروں کی حالیہ کارروائیوں کے خلاف جاری مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کے بعد شہر کے میئر نے مرکزی علاقوں میں رات کے اوقات میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:لاس اینجلس میں کرفیو کے نفاذ کے بعد فضا مزید کشیدہ ہوگئی

مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے دوران متعدد گاڑیاں جلائی گئیں، درجنوں دکانوں کو لوٹا گیا اور سینکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک فوجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مظاہرین کو ’جانور‘ قرار دیا اور انہیں غیرملکی ایجنڈا رکھنے والے گروہ کہا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ لاس اینجلس کو ’آزاد‘ کرانے کے لیے مکمل اقدامات کریں گے۔

ٹرمپ کا کہنا تھاکہ ہ وہ لوگ ہیں جو ہماری سڑکوں پر غیر ملکی پرچم اٹھا کر ملک کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں، ان کو خاموش کرنا ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہزاروں نیشنل گارڈ اہلکاروں اور سینکڑوں میرینز کو شہر میں تعینات کیا جا چکا ہے تاکہ قانون کی بالادستی قائم کی جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فوجی اہلکار صرف وفاقی املاک کی حفاظت کریں گے، جبکہ گرفتاریاں مقامی پولیس کے ذریعے عمل میں آئیں گی۔

طاقت کا ناجائز استعمال

کلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے صدر ٹرمپ کے ان اقدامات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ان پر وفاقی طاقت کے ناجائز استعمال کا الزام عائد کیا۔ گورنر نیوسم نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ ہماری ریاست کے معاملات میں مداخلت قابل قبول نہیں، صدر کا رویہ آمریت کی ایک شکل ہے۔ ہم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:لاس اینجلس میں رپورٹنگ کے دوران آسٹریلوی صحافی ربڑ کی گولی لگنے سے زخمی

شہر کی میئر کیرن بیس نے گزشتہ روز کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا، جو ڈاؤن ٹاؤن کے ایک میل کے علاقے میں رات 8 بجے سے صبح 6 بجے تک نافذ العمل رہے گا۔

مظاہروں کے دوران اب تک 300 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ درجنوں املاک کو نقصان پہنچا ہے۔

یاد رہے کہ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب امیگریشن حکام نے مقامی کمیونٹیز میں اچانک چھاپے مار کر متعدد غیرقانونی تارکین وطن کو حراست میں لے لیا۔ ان کارروائیوں کو انسانی حقوق کی تنظیموں نے غیرقانونی اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:لاس اینجلس مظاہرے، نیشنل گارڈز کے بعد 700 میرینز بھی تعینات، بغاوت کا خطرہ ہے، ٹرمپ

تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ جارحانہ انداز ان کی انتخابی مہم کا حصہ ہو سکتا ہے، جس میں وہ قانون و انصاف کے رکھوالے کے طور پر خود کو پیش کر رہے ہیں، جبکہ مخالفین اس کو شہری آزادیوں پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا مظاہرے صدر ٹرمپ کلیفورنیا گورنر گیون نیوسم لاس اینجلس مظاہرے.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا مظاہرے لاس اینجلس مظاہرے لاس اینجلس

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ