سائنس اور ٹیکنالوجی میں خود انحصاری چین کی ترقی کا ایک طاقتور انجن ہے، چینی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
سائنس اور ٹیکنالوجی میں خود انحصاری چین کی ترقی کا ایک طاقتور انجن ہے، چینی میڈیا WhatsAppFacebookTwitter 0 12 June, 2025 سب نیوز
بیجنگ :چینی رہنما شی جن پھنگ نے ایک بار کہا تھا کہ “سائنس اور ٹیکنالوجی ملک کا ہتھیار ہے، جس پر ملک کی طاقت، اداروں کی کامیابی، اور عوام کی خوشحالی کا انحصار ہوتا ہے۔” تاہم سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں چین کو امریکہ اور مغرب کی جانب سے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس سے چین کو احساس ہوا ہے کہ اسے آزاد انہ جدت طرازی پر انحصار کرنا چاہیے۔ لہٰذا شی جن پھنگ نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کی حکمت عملی پیش کی اور اسے “ملک کی مجموعی ترقی کے لئے بنیادی ستون” قرار دیا۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں “دوسروں کی پیروی کرنے” سے لے کر بہت سے شعبوں میں “قائدانہ حیثیت” تک ، چین اپنی خصوصیات کے ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کی راہ پر گامزن ہے۔پہلا ،حکمت عملی کا قیام کیا گیا اور قومی “جدت طرازی” کے نظام کی تعمیر نو کی گئی۔ چین بنیادی تحقیق میں اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ جاری رکھے ہوئے ہے؛ ٹیلنٹ پالیسیوں کے ایک سلسلے کے نفاذ کے ذریعے، چین نے سائنسی اور تکنیکی ترقی کے لیے بڑے پیمانے پر ایک اعلی معیار، اور مناسب ڈھانچے کا ٹیلنٹ پول تشکیل دیا ہے.
جو دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔دوسرا ، تکنیکی ناکہ بندی کو توڑنے کے لئے “نیا قومی نظام”قائم ہوا ہے. حکومت قومی وسائل کی تقسیم کی قیادت کرتی ہے، لیبارٹریوں، سائنسی تحقیقی اداروں اور اعلیٰ جامعات جیسی اسٹریٹجک قوتوں کو مربوط کیا جاتا ہے، پھر انٹرپرائز فورسز اور مارکیٹ میکانزم متعارف کروایا جاتا ہے ،یوں صنعت، تعلیم، تحقیق اور ایپلی کیشن کا گہرا انضمام کیا گیا ہے۔ اس نظام کی مدد سے چین نے کئی اہم شعبوں میں تکنیکی ناکہ بندی کو کامیابی سے توڑ دیا ہے۔تیسرا نئے معیار کی پیداواری قوتوں کو بااختیار بنایا گیا ہے،
سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی کو صنعتی برتری میں تبدیل کیا گیا۔ چین نے “بنیادی تحقیقات ،مشکل کلیدی تکنیکی حل اور صنعتی تبدیلی” کا ایک مکمل سلسلہ تشکیل دیا ہے ، جس سے گلوبل انوویشن انڈیکس میں چین کی درجہ بندی کو 2012 میں 34 ویں سے 2024 میں 11 ویں نمبر تک پہنچایا گیا۔ شی جن پھنگ کا یہ بھی ماننا ہے کہ “بین الاقوامی سائنسی اور تکنیکی تعاون انسانیت کو درپیش عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ “بیڈو سسٹم 200 سے زیادہ ممالک کے لیے خدمات فراہم کرتا ہے، فاسٹ ٹیلی سکوپ بین الاقوامی برادری کے لئے کھلی ہے، ڈیپ سیک عالمی مصنوعی ذہانت مساوات کو فروغ دیتا ہے،وغیرہ وغیرہ۔ان اقدامات سے چین کھلے تعاون میں اپنی سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی کی صلاحیتوں کو بڑھا رہا ہے اورساتھ ہی عالمی سائنس اور ٹیکنالوجی گورننس کے لئے چینی حل بھی فراہم کرتا رہا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکینیڈا کے شہر برنابی نے چینی نژاد افراد کے خلاف تاریخی امتیازی سلوک پر سرکاری معافی کا اعلان کر دیا چین کا تھیان وین-2 پروب لانچ کر دیا گیا مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے چین کی چار نکاتی تجاویز روس، چین کا چاند پر پاور پلانٹ تعمیر کرنے کا منصوبہ، پاکستان کو بھی شرکت کی دعوت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے 18کروڑ ، 40لاکھ پاس ورڈز لیک ہونے کا انکشاف،ایڈوائزری جاری چین کی سیٹلائٹ نیویگیشن اور لوکیشن پر مبنی خدمات کی صنعت میں ترقی کا رجحان برقرار بھارت کا سیٹلائٹ ای او ایس زیرو نائن کا تجربہ ناکام ہوگیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سائنس اور ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کی ترقی چین کی
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔