Jasarat News:
2026-07-24@01:43:17 GMT

بھارتی میڈیا بے نقاب

اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

(آخری حصہ)
انڈیا ٹوڈے کی مقبول اینکر سویتا سنگھ نے ٹی وی اسکرین پر چیخ چیخ کر کہا کہ کراچی ۱۹۷۱ کے بعد کا سب سے بُرا خواب دیکھ رہا ہے۔ سویت سنگھ نے یہ بھی کہا کہ اب پاکستان کو ختم سمجھیے۔ جب سویتا سنگھ سے اِس سلسلے میں بات کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا تو اُس نے کال اٹینڈ کرنے سے گریز کیا۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ نے ۹ مئی کو صبح آٹھ بجے ایکس پر لکھا کہ بندر گاہ پر کوئی حملہ نہیں ہوا اور معمول کے مطابق کام ہو رہا ہے۔ تب تک ہندی کے بیش تر اخبارات کراچی کی بندر گاہ کی تباہی کی خبر اپنے پہلے صفحے پر شایع کرچکے تھے۔ بھارتی ٹی وی چینل غلط رپورٹس چلاتے رہے۔ بے بنیاد باتیں اور دعوے پھیلانے میں ریٹائرڈ فوجی افسران نے کلیدی کردار ادا کیا۔ بریکنگ نیوز بینرز پر لڑاکا طیاروں کی تصویریں لگائی گئیں۔ پینل ڈسکشنز میں ریٹائرڈ فوجی افسران نے زوردار بڑھکیں ماریں اور پوری قوم میں جنگی جنون پیدا کردیا۔ ایک مرحلے پر حکومت نے ٹی وی چینلز کو انتباہ کیا کہ وہ اپنے گرافکس میں حملوں کے سائرن شامل نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے قوم ہیجان میں مبتلا ہو رہی ہے۔ حکومت کو اس بات کا بھی خدشہ لاحق تھا کہ اگر لوگ خبروں میں حملوں کے سائرن سُنتے رہے تو اُن کی نظر میں حکومت کی طرف سے بجائے جانے والے خطرے کے سائرنز کی کچھ قدر باقی نہ رہے گی اور وہ جنگ کے حوالے سے قدرے بے حِس ہوجائیں گے۔
اُدھر پاکستانی میڈیا نے بھی اپنے حصے کی بے بنیاد اور گمراہ کن خبریں پیش کیں۔ کبھی کہا گیا کہ بھارت نے افغانستان پر بمباری کی ہے اور کبھی بتایا گیا کہ پاک فوج نے بھارت میں بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز تباہ کردیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی درخواست پر ایک بیان میں پاک فوج کے میڈیا وِنگ نے کہا کہ تصدیق شدہ معلومات کی بنیاد پر ہم نے جو معلومات میڈیا پر شیئر کیں اور جو پریس ریلیز جاری کیے اُن پر ہم قائم ہیں۔
زیادہ سے زیادہ سنسنی خیز خبریں شایع کرنے کی دوڑ نے پورے بھارت میں شدید ہیجانی کیفیت پیدا کردی۔ رائٹرز انسٹیٹیوٹ (آکسفرڈ یونیورسٹی) کے مطابق این ڈی ٹی وی بھارت میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ٹی وی چینل ہے۔ ایک فیلڈ رپورٹر نے کسی بات پر جھنجھلا کر نیوز روم والوں سے جو کچھ کہا وہ پوری قوم نے سُن لیا۔ اُس نے کہا پہلے تو تم لوگ کہتے ہو اپ ڈیٹ دو، اپ ڈیٹ دو اور پھر کہتے ہیں کہ فیک نیوز کیوں چلائی۔
ہندی نیوز چینل آج تک کے ایک ٹاک شو میں ایک نوجوان نے جعلی اور جھوٹی خبروں کے نشر کرنے سے عالمی برادری میں بھارت کی بھد اُڑنے سے متعلق سوال کرنا چاہتا تو اینکر نے اُس کا سوال ختم ہونے سے پہلے ہی مائک اُس سے چھین لیا۔ جب واشنگٹن پوسٹ نے آج تک اور انڈیا ٹوڈے چلانے والے ادارے ٹی وی ٹوڈے کے تعلقاتِ عامہ کے سربراہ سے اس سلسلے میں اُن کی رائے جاننا چاہی تو اُنہوں نے جواب دینا گوارا نہ کیا۔ ایک بڑے انگریزی نیوز چینل کی اینکر نے واشنگٹن پوسٹ سے انٹرویو میں کہا کہ یہ سب کچھ ڈپریشن میں مبتلا کرنے والا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانکیں۔
جب بھارتی ٹی وی چینلز پر بلنگ بانگ دعوے کیے جارہے تھے اور بے بنیاد خبروں کے ذریعے بھارتی عوام کو دھوکا دیا جارہا تھا تب بھارت کے سیکرٹری خارجہ وکرم مِسری اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح کا انتظار کر رہے تھے جب اُنہیں خاصے سُکون کے ساتھ پریس بریفنگ دینی تھی۔ وزیرِاعظم نریندر مودی نے ۱۰ مئی کو جنگ بندی کے بعد پہلی بار قوم سے اس سلسلے میں کچھ کہنے کی ہمت اپنے اندر پیدا کی۔ وزیرِخارجہ ایس جے شنکر نے پاکستان اور بھارت کی فضائی معرکہ آرائی کے دوران ایکس پر صرف ایک جملے کے ذریعے اپنی حاضری ممکن بنائی۔ اِس خلا کو ٹی وی کے نیوز اینکرز نے پُر کیا۔ بھارتی بحریہ کے ایک سابق ایڈمرل نے کہا کہ ہم معلومات کی جنگ اِن کیریکٹرز (وی ٹی وی اینکرز) کے ہاتھوں ہار گئے ہیں۔ دوسری طرف بھارت کے ایک سینیر نیشنل سیکورٹی آفیشل نے (قدرے ڈھٹائی) سے کہا کہ غلط معلومات پھیلانے کا فائدہ بھی بھارت ہی کو پہنچا۔ ہمیں معلوم تھا کہ پاکستان میں ہمیں لوگ دیکھ رہے ہیں اِس لیے ہم نے زیادہ سے زیادہ کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کی اور اِس میں کامیاب رہے۔ اُس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم انفارمیشن اسپیس میں اپنی بھرپور موجودگی ثابت کرنا چاہتے تھے اور ایڈوانٹیج لینے کے خواہش مند تھے۔ اُس کا یہ بھی کہنا ہے کہ کبھی کبھی انفارمیشن وار میں اپنے لوگوں ہی کو نقصان پہنچ جاتا ہے مگر کیا کریں کہ آج کے زمانے کی جنگ کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ سابق سیکرٹری خارجہ نروپما رائے کہتی ہیں کہ مسئلہ یہ ہے کہ ٹی وی چینلز میگا فون استعمال کر رہے ہیں۔ ہمیں مائکروفون کو ایسے لوگوں کے ذریعے استعمال کرنا ہے جن کی بات پر لوگ بھروسا کرتے ہیں، جن کا احترام کرتے ہوں۔ جھوٹ کی گرم بازاری کے ہاتھوں پیدا ہونے والی جنونی کیفیت نے بہت سے نیوز رومز میں کام کرنے والوں میں اپنے گریبان میں جھانکنے کی تحریک دی ہے تاہم عوام سے معافی مانگنے کا رجحان اب تک پیدا نہیں ہوسکا ہے۔ آج تک نیوز چینل پر کام کرنے والے ایک اینکر نے عوام سے اِتنا ضرور کہا ہے کہ ہماری بہت کوشش کے باوجود کچھ غلط اور بے بنیاد باتیں نشر ہوگئیں۔ اور اس کے لیے ہم آپ سے معذرت خواہ ہیں۔ دوسرے بہت سے صحافی اپنے جھوٹ پر نہ صرف یہ کہ قائم ہیں بلکہ ڈھٹائی سے کہہ رہے ہیں کہ جو کچھ اُنہوں نے کہا وہ قومی ضرورت کے تحت تھا۔ ٹائمز ناؤ نو بھارت کے اینکر سُشانت سِنہا نے کہا تھا کہ بھارتی ٹینک پاکستان میں داخل ہوچکے ہیں۔ آٹھ منٹ کی ایک ویڈیو میں اُس نے کہا کہ ہر چینل نے کم از کم ایک غلطی ضرور کی جبکہ ہماری کوئی بھی غلطی ملک و قوم کے خلاف نہیں تھی۔ (تحریر: کرشمہ مہروترا)
www.

washingtonpost.com
How misinformation overtook Indian newsrooms amid conflict with Pakistan
By Karishma Mehrotra

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ٹی وی چینل بے بنیاد کہا کہ تھا کہ نے کہا

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا