اپنے ایک جاری بیان میں عمانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ صیہونی رژیم کا یہ قدم واضح طور پر سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنے اور ایک گہرے بحران کو بھڑکانے کیلئے دانستہ کوشش کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عمان کی وزارت خارجہ نے آج صبح اسلامی جمہوریہ ایران پر صیہونی حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ عمان نے اس حرکت کو خطرناک اشتعال انگیزی، احمقانہ، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا۔ عمان نے صیہونی حملے کو جارحانہ و ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے علاقائی استحکام کے لئے خطرے سے تعبیر کیا۔ عمان نے اعلان کیا کہ یہ حملہ اس وقت انجام پایا جب ایران اور امریکہ کے مابین جوہری مذاکرات کی بحالی کے لئے بین الاقوامی کوششیں جاری ہیں۔ مسقط نے کہا کہ صیہونی رژیم کا یہ قدم واضح طور پر سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنے اور ایک گہرے بحران کو بھڑکانے کے لئے دانستہ کوشش کی نشاندہی کرتا ہے۔ جس کے علاقائی و عالمی امن پر تباہ کن نتائج پڑ ہو سکتے ہیں۔ آخر میں عمان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جارحیت کے خلاف ایک واضح موقف اختیار کریں تا کہ اس خطرناک روش کا خاتمہ ہو سکے۔ واضح رہے کہ غزہ کی حمایت میں غاصب صیہونی رژیم نے آج صبح اسلامی جمہوریہ ایران پر 250 کے قریب حملے کئے۔ جن میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس دراندازی پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ صیہونی رژیم کو ان حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صیہونی رژیم

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت