اپنے ایک جاری بیان میں عمانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ صیہونی رژیم کا یہ قدم واضح طور پر سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنے اور ایک گہرے بحران کو بھڑکانے کیلئے دانستہ کوشش کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عمان کی وزارت خارجہ نے آج صبح اسلامی جمہوریہ ایران پر صیہونی حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ عمان نے اس حرکت کو خطرناک اشتعال انگیزی، احمقانہ، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا۔ عمان نے صیہونی حملے کو جارحانہ و ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے علاقائی استحکام کے لئے خطرے سے تعبیر کیا۔ عمان نے اعلان کیا کہ یہ حملہ اس وقت انجام پایا جب ایران اور امریکہ کے مابین جوہری مذاکرات کی بحالی کے لئے بین الاقوامی کوششیں جاری ہیں۔ مسقط نے کہا کہ صیہونی رژیم کا یہ قدم واضح طور پر سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنے اور ایک گہرے بحران کو بھڑکانے کے لئے دانستہ کوشش کی نشاندہی کرتا ہے۔ جس کے علاقائی و عالمی امن پر تباہ کن نتائج پڑ ہو سکتے ہیں۔ آخر میں عمان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جارحیت کے خلاف ایک واضح موقف اختیار کریں تا کہ اس خطرناک روش کا خاتمہ ہو سکے۔ واضح رہے کہ غزہ کی حمایت میں غاصب صیہونی رژیم نے آج صبح اسلامی جمہوریہ ایران پر 250 کے قریب حملے کئے۔ جن میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس دراندازی پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ صیہونی رژیم کو ان حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صیہونی رژیم

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم