مشرق وسطیٰ میں جوہری مذاکرات کے ثالث کے طور پر کردار ادا کرنے والے ملک عمان نے اسرائیل کے حالیہ حملوں کو خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ عمان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

عمانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے ناقابل قبول اور مسلسل جارحیت کی عکاسی کرتے ہیں، جو خطے میں استحکام کی بنیادوں کو متزلزل کرتے ہیں۔ اسرائیل اس کشیدگی اور اس کے نتائج کا مکمل ذمہ دار ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کا ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملہ، کن مقامات کو ہدف بنایا گیا؟

یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات کے سلسلے میں امریکی صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف کا رواں ہفتے عمان میں ایرانی وفد سے چھٹے دور کی ملاقات طے تھی۔ تاہم اسرائیلی حملوں کے بعد یہ ملاقات غیر یقینی کا شکار ہو گئی ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے امریکا کو ان حملوں کا شریکِ جرم قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس کا بدلہ لیا جائے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں مذاکرات کی فضا متاثر ہو چکی ہے اور امریکی نیت پر شکوک مزید بڑھ گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران جوہری مذاکرات عمان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا ایران جوہری مذاکرات

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل