چین اور یورپی یونین کو کثیر الجہتی طور پر قریبی تعاون کرنا چاہئے ، چینی وزیر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
چین اور یورپی یونین کو کثیر الجہتی طور پر قریبی تعاون کرنا چاہئے ، چینی وزیر اعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 13 June, 2025 سب نیوز
بیجنگ:چین کے وزیر اعظم لی چھیانگ نے بیجنگ میں یورپی مرکزی بینک کی صدر کرسٹین لیگارڈ سے ملاقات کی۔جمعہ کے روز ملاقات کے موقع پر لی چھیانگ نے نشاندہی کی کہ چین اور یورپی یونین کو کثیر الجہتی طور پر قریبی تعاون کرنا چاہئے ، کھلے پن اور تعاون کو فروغ دینا چاہئے ، اور عالمی معاشی بحالی کو فروغ دینے اور عالمی گورننس کو بہتر بنانے میں زیادہ سے زیادہ حصہ ڈالنا چاہئے۔
چین بین الاقوامی مانیٹری نظام کی اصلاحات میں یورپی مرکزی بینک کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ اس سال، چین نے زیادہ فعال میکرو اکنامک پالیسیوں کو نافذ کیا ہے، کاؤنٹر سائیکلیکل ایڈجسٹمنٹ کو تیز کیا ہے، اور گھریلو طلب اور کھپت کو بڑھانے کے لئے متعدد اقدامات کیے ہیں،جس سے بیرونی منفی اثرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ چین کھلے پن کو مزید وسعت دے گا اور دنیا کے ساتھ ترقی کے مواقع شیئر کرے گا۔لیگارڈ نے کہا کہ یورپ اور چین کے لیے اعلیٰ سطح کے تبادلوں، مکالمے اور تعاون کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ ٹیرف جنگوں اور تجارتی جنگوں میں کوئی فاتج نہیں ہوتا اور کثیر الجہتی ،کھلے پن اور تعاون کو مضبوط بناناہی صحیح راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں چین کی جدت طرازی اور کارپوریٹ مسابقت متاثر کن ہے۔11 جون کو ، پیپلز بینک آف چائنا کے گورنر پھان گونگ شینگ اور یورپی مرکزی بینک کی صدر کرسٹین لیگارڈ نے چین اور یورپی مرکزی بینک کے صدور کا پہلا سالانہ اجلاس منعقد کیا۔ ملاقات کے بعد فریقین نے پیپلز بینک آف چائنا اور یورپی مرکزی بینک کے درمیان تعاون کی یادداشت پر دستخط کیے جس سے چین اور یورپی مرکزی بینک کے صدور کے سالانہ اجلاس کا میکانزم واضح طور پر قائم ہوا اور معلومات کے تبادلے، تکنیکی تعاون اور پالیسی مواصلات میں تعاون کے فریم ورک کو مزید بہتر بنایا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراقوامِ متحدہ، جنرل اسمبلی میں غزہ جنگ بندی کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور پاکستان میں صرف 5 فیصد افراد نے ٹیکس دینا ہے وہ بھی نہیں دے رہے، چیئرمین ایف بی آر ایران ، اسرائیل کشیدگی: ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مندی، سونے کی قیمت میں اضافہ امریکہ چین کے خلاف اپنے منفی اقدامات غیر مشروط طور پر فوری واپس لے ۔88.5 فیصد افراد کا مطالبہ، سی جی ٹی این سروے بجٹ آئی ایم ایف کا 344 ارب روپے کی گرانٹس پر اظہارِ تشویش،،اراکین پارلیمنٹ کی اسکیموں پر سوالات امید ہے کہ امریکہ چین کے ساتھ مل کر دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے پر عمل درآمد کرے... چین اور روس کے درمیان تعاون ڈبلیو ٹی او کے قواعد اور مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق ہے، چینی وزارت خارجہ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چین اور یورپی کثیر الجہتی
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔