برسلز (ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وزیر خارجہ و چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ بھارت نے دہشت گردی کا بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کیا، عالمی سطح پر سندھو، مسئلہ کشمیر اور دہشت گردی کا ایشو اٹھا رہے ہیں۔
 نجی ٹی وی  جیو نیوزکے مطابق بلاول بھٹو کی قیادت میں پاکستانی وفد نے بیلجیئم کی وزارت خارجہ کے حکام سے ملاقات کی ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو نے کہا کہ یو این میں دہشت گردی سے متعلق کمیٹیوں کی ذمہ داری پاکستان کو دینابڑی کامیابی ہے، پاکستان کو ٹیررستان کہنے والے بھارت کو یواین سے منہ توڑ جواب ملا۔ 
بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستانی وفد نے بیلجیئم فارن افیئر کمیٹی کی وائس چیئر کیٹلین ڈیپورٹر اور چیئر آف پاکستان بیلجیئم پارلیمنٹری فرینڈشپ گروپ فرانکیم بیلجینڈ سمیت بیلجیئم کی سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے ممبران سے بھی ملاقات کی۔ 
وفد نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، خطے میں آگے بڑھنے پائیدار قیام امن اور مسائل کے حل کیلئے جامع مذاکرات کا حامی ہے۔
پاکستان کا وفد یورپی پارلیمنٹ بھی گیا جہاں انٹرنیشنل ٹریڈ کمیٹی کے چیئر ممبر یورپی پارلیمنٹ برنڈ لانجے سے ملاقات کی۔ 
وفد نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ پاکستان کو جی ایس پی پلس کے تحت ترجیحی تجارت جاری رکھے تاکہ یورپی ممالک کو پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات فروغ پائیں۔ 
وفد نے برنڈ لینج کو جنگی جنون میں مبتلا بھارت کی جانب سے پاکستانی شہریوں کیخلاف کارروائی سے بھی آگاہ کیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ وہ بھارت پر اس ضمن میں زور دیں گےکہ وہ سندھ طاس معاہدہ کو معطل کرنے جیسے ماورائے قانون اقدامات سے اجتناب کرے۔
وفد نے مزید کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور کشمیر سمیت تمام مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا حامی ہے۔
پاکستانی پارلیمانی وفد نے یورپین کمیشن میں کمشنر برائے بین الاقوامی شراکت داری کی کابینہ سربراہ، لوسی سیسٹاکووا اور کیبنٹ ایکسپرٹ برائے ایشیا نیٹیویڈاد لورینزو سے بھی ملاقات کی۔ 
وفد نے انہیں بھارت کے جارحانہ منفی رویے اور یکطرفہ غیر قانونی اقدامات کے باعث خطے میں امن و سلامتی کو درپیش شدید خطرات سے آگاہ کیا ۔
پاکستان وفد یورپ کے معروف تھنک ٹینک "ایگمونٹ " بھی گیا جہاں انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل ایمبیسڈر پال ڈی وٹ سمیت اہم شخصیات کو بتایا گیا کہ جنگ بندی کے باوجود بھارت پانی کو ہتھیار کے طورپر استعمال کررہا ہے۔ 
بلاول بھٹو نے کہا کہ امریکی فوج کے اعلیٰ حکام بھی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو غیر معمولی شراکت دار مانتے ہیں اور خود صدر ٹرمپ مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے کردار ادا کرنےکو تیار ہیں۔ ایسے میں یورپی یونین کو بھی چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرائے۔
مصدق ملک نے کہا کہ جو بھارت ہمیں دھمکی دےرہا ہے اس کا ایک تہائی پانی کہیں اور سے آتا ہے وہ سوچے کہ یہ روش چل پڑی تو بھارت کے ساتھ کیا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوتوا کا بھوت پاکستان کو تو کیا نقصان پہنچائےگا،بھارت سوچے کہ ان کے اپنے لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا۔ اسی لیے یورپی یونین سے کہا ہے کہ وہ بھارت کو وائلڈ ویسٹ کی سوچ سے باز رکھے۔
دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جلیل عباس جیلانی نے توقع ظاہر کی کہ یورپی یونین جی ایسی پلس کو جاری رکھنے میں اہم کردارا ادا کرے گا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے غزہ سے متعلق قرارداد منظور کرلی

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار