نادرا نے شناختی کارڈ کے حصول کا نیا طریقہ کار متعارف کرا دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
ویب ڈیسک: نادرانے شہریوں کیلئے قومی شناختی کارڈزکے حصول کیلئے نیاطریقہ کارمتعارف کرادیا۔
نادرا حکام نے پہلی بارشناختی کارڈ حاصل کرنے والے شہریوں کے لیے تفصیلی مرحلہ وار ہدایات جاری کردی ہیں۔
نادراکی جانب سے متعارف کرائی گئی نئی پالیسی کے تحت شہریوں کو چھ مراحل سے گزرنا ہوگا جن میں بائیو میٹرک تصدیق، کوائف کی درستی، قانونی سرپرستی کی تصدیق اورفیس کی ادائیگی شامل ہے۔
شناخت کے لیے والدین یا بہن بھائیوں کے شناختی کارڈ، قانونی سرپرستی کی صورت میں گواہ اور حلف نامہ بھی پیش کرنا ضروری ہوگا،اس کے علاوہ ب فارم یا کمپیوٹرائزڈ پیدائش سرٹیفکیٹ بھی لازمی قراردیا گیا ہے۔
مزید بارشیں،مون سون سے متعلق بڑی پیشگوئی
شناختی کارڈزکے حصول کے لئے درخواست کی تین کیٹیگریزمیں نارمل (750 روپے، 30 دن)، ارجنٹ (1500 روپے، 15 دن) اور ایگزیکٹو (2500 روپے، 7 دن) شامل ہیں۔
نادرا نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ تمام کوائف درست طریقے سے جمع کرائیں تاکہ تاخیر یا اعتراض سے بچا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔