data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی( نادرا)نے ٹیلی کام کمپنیوں سمیت دیگر کو جدید ڈیوائسز کے استعمال کی ہدایت کردی ہے۔ کراچی میں بزرگ شہریوں کو بائیومیٹرک کی تصدیق کے حوالے سے مشکلات کا سامنا رہتا ہے خاص طور پر جب اْن کے فنگر پرنٹس ناقابلِ شناخت ہو جاتے ہیں ،کراچی کے ہزاروں بزرگ شہریوں جنہیں تکنیکی رْکاوٹ کی وجہ سے روزمرہ کے معمولات میں بار بار پریشانی کا سامنا رہتا ہے۔کراچی کے65 برس کے رہائشی عظمت اللہ قریشی کے لیے بینک سے پینشن وصول کرنا، نئی سِم حاصل کرنا، رقم منتقل کرنا یا وصول کرنا اب ایک مشکل مرحلہ بن چکا ہے۔ان کی بڑھتی عمر کے ساتھ جہاں ان کی صحت متاثر ہوئی ہے وہیں ان کے فِنگر پرنٹس بھی مدھم ہو چکے ہیں۔ ہر بار بائیومیٹرک تصدیق اْن کے لیے ایک نئی پریشانی بن کر سامنے آتی ہے۔انہیں نادرا کے دفتر، کبھی بینک اور بعض اوقات فرنچائز کے چکر کاٹنا پڑتے ہیں، مگر اکثر انہیں کامیابی کے بغیر ہی واپس لوٹنا پڑتا ہے۔ بزرگ شہریوں کو بائیومیٹرک تصدیق میں درپیش مسائل کے حوالے سے نادرا کا مؤقف جاننے کے لیے ادارے کے ترجمان سید شباہت علی سے رابطہ کیا۔ترجمان نادرا کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو فیشل ریکگنیشن کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ’نادرا نے نیشنل آئیڈینٹٹی کارڈ رْولز 2002 میں اہم ترامیم کرتے ہوئے بائیومیٹرک تصدیق کی تعریف میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں جن میں چہرے کی شناخت (فیشل ریکگنیشن) اور آئرس (آنکھوں کی پْتلیوں کی شناخت) کو بھی شامل کیا گیا ہے۔‘’اس کا مطلب یہ ہے کہ اب شناختی تصدیق صرف فِنگر پرنٹس پر منحصر نہیں رہی، بلکہ اگر کسی شہری کے انگوٹھے یا انگلیوں کے نشانات قابلِ شناخت نہ ہوں، تو وہ بائیومیٹرک کے متبادل یعنی فیشل ریکگنیشن یا آئرس سکیننگ کے ذریعے بھی تصدیق کروا سکتے ہیں۔‘سید شباہت علی مزید کہتے ہیں کہ ’اس جدید نظام پر مکمل عمل درآمد کے لیے وزارت داخلہ نے تمام متعلقہ اداروں کو 30 دسمبر 2025 تک مہلت دے رکھی ہے۔‘اس سلسلے میں نادرا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، سٹیٹ بینک آف پاکستان، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سمیت دیگر اداروں کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔ترجمان نادرا کا کہنا تھا کہ ’اس حوالے سے ا سٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو یہ ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ جدید بائیومیٹرک ڈیوائسز استعمال کریں اور فیشل ریکگنیشن کی سہولت فراہم کریں تاکہ ان شہریوں کو سہولت دی جا سکے جن کے فِنگر پرنٹس ناقابلِ شناخت ہو چکے ہوں۔‘اگر کسی شہری کے انگوٹھے یا انگلیوں کے نشانات قابلِ شناخت نہ ہوں، تو وہ آئرس ا سکیننگ کروا سکتا ہے اس سوال کے جواب میں کہ اگر بینک یا دیگر ادارے ان ہدایات پر عمل درآمد نہ کریں تو نادرا کیا حکمتِ عملی اپناتا ہے، سید شباہت علی نے بتایا کہ ’نادرا صرف تکنیکی معاونت فراہم کر سکتا ہے۔‘’بائیومیٹرک نظام کا نفاذ متعلقہ ریگولیٹرز، جیسے کہ ا سٹیٹ بینک یا دیگر اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اگر کسی بینک یا ادارے میں جدید بائیومیٹرک طریقوں پر عمل درآمد نہیں ہو رہا تو یہ اْن کے ریگولیٹری ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے یقینی بنائے۔‘بزرگ شہریوں کے فِنگر پرنٹس کے مسائل کی بنیادی وجہ عمر رسیدگی کے اثرات ہیں۔ جیسے جیسے انسان کی عمر بڑھتی ہے تو اْس کی جلد کی ساخت میں بھی نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ہاتھوں کی جلد پتلی، خشک اور کم لچک دار ہو جاتی ہے جس کے باعث فنگر پرنٹس دْھندلے یا تقریباً مٹنے لگتے ہیں۔ بعض اوقات انگلیوں کی پوروں پر جْھریاں بڑھ جانے سے بھی بائیومیٹرک سکینر درست شناخت نہیں کر پاتے ہیں۔ یہی وجوہات نادرا یا دیگر اداروں کے بائیومیٹرک سسٹم کے لیے شناخت میں رْکاوٹ بنتی ہیں، اسی وجہ سے بعض اوقات بزرگ شہریوں کو تصدیق یا رجسٹریشن میں دْشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بزرگ شہریوں شہریوں کو کے لیے

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش