City 42:
2026-06-03@08:21:07 GMT

پہلی بار قومی شناختی کارڈ بنوانے والوں کیلئے اہم خبر

اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT

ویب ڈیسک: پہلی بار شناختی کارڈ بنوانے کے لئے مطلوبہ دستاویزات ہمراہ لانا ضروری ہے، والدین یا بہن بھایئوں کے شناختی کارڈ، لے پالک یا لاوارث ہونے کی صورت میں قانونی سرپرست اور سرپرستی کا قانونی ثبوت، ب فارم یا یونین کونسل یا کنٹونمنٹ بورڈ سے جاری شدہ بچے کا کمپیوٹرائزڈ پیدائش سرٹیفکیٹ یا نیچر لائزیشن سٹیزن شپ سرٹیفکیٹ۔

پہلے مرحلے میں ٹوکن حاصل کریں، اپنی باری آنے پر کاؤنٹر پر جا کے بائیو میٹرک تصدیق کروائیں، والدین یا بہن، بھائیوں میں سے کسی ایک کی بائیو میٹرک تصدیق کرائیں۔

مون سون : لاہور سمیت کئی شہروں میں بارش

تیسرے مرحلے میں اپنے کوائف درج کروائیں، انگلیوں کے نشانات اور تصویر بنوائیں، درج کروائے گئے تمام کوائف چیک کریں اگر کوئی غلطی ہے تو فوراً درست کرائیں۔

چوتھے مرحلے میں فارم کی تصدیق ہوگی، اس کے لئے والدین یا بہن بھائیوں میں سے کسی ایک کی بائیو میٹرک تصدیق کرائیں۔

بصورت دیگر نادرا درخواست فارم گزیٹیڈ آفیسر یا عوامی نمائندے سے تصدیق کرائیں، قانونی سرپرست والے کیس کی صورت میں نادرا درخواست فارم گزیٹڈ آفیسریا عوامی نمائندے سے تصدیق کرنا لازم ہے۔

بھارتی مسافرطیارہ  کیسے گرا? ابتدائی رپورٹ سامنے آ گئی  

اور ساتھ قومی شناختی کارڈ کا حامل ایک گواہ بمعہ نادرا کا وضع کردہ حلف نامہ ’بی‘ پیش کرنا ضروری ہے، پانچویں مرحلے میں درخواست دہندہ سے اُس کی فیملی کے بارے کچھ سوالات کئے جائیں گے۔

چھٹے مرحلے میں فیس کی ادائیگی کرنا ہوگی، آپ کے موبائل نمبر پر منظوری کا میسج آئے گا، مطلوبہ کیٹیگری کے مطابق نادرا دفتر میں یا آن لائن فیس جمع کرائیں۔

ایگزیکٹو کیٹیگری، 7 کے اندر شناختی کارڈ بنوانے کی فیس 2500 روپے،ارجنٹ کیٹیگری،  15 کے اندر شناختی کارڈ بنوانے کی فیس 1500 روپے جبکہ نارمل کیٹیگری ایک ماہ کے اندر شناختی کارڈ بنوانے کی فیس 750 روپے ہے۔

فلسطین میں آبادکاروں کا تشدد، ایک نوجوان ہلاک

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: شناختی کارڈ بنوانے مرحلے میں

پڑھیں:

اسپیکر سردار ایاز صادق کی اصلاحاتی پالیسیوں سے قومی اسمبلی کے اخراجات میں نمایاں کمی

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی جانب سے متعارف کرائی گئی کفایت شعاری اور انتظامی اصلاحات کے نتیجے میں ریکارڈ مالی بچت سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران نہ صرف اربوں روپے کی بچت ہوئی بلکہ ادارے کو جدید، ڈیجیٹل اور مؤثر نظام کی طرف بھی گامزن کیا گیا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں کفایت شعاری، مالی نظم و ضبط اور جدید انتظامی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، جن کے باعث ادارے کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔

پارلیمانی نظام کو پیپر لیس پارلیمنٹ کے وژن کی جانب تیزی سے لے جایا جا رہا ہے، جبکہ پارلیمانی امور کی ڈیجیٹلائزیشن سے اخراجات میں نمایاں کمی اور انتظامی کارکردگی میں بہتری دیکھی گئی ہے۔

قومی اسمبلی کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے مزین ادارہ بنانے کی سمت بھی پیش رفت جاری ہے۔ انتظامی ڈھانچے کی بہتری کے ذریعے قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اصلاحاتی اقدامات کے تحت اسامیوں کی تعداد 1725 سے کم کر کے 1344 کر دی گئی ہے، جبکہ مالی سال 2026-27 کے دوران مزید 80 اسامیوں کے خاتمے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

بیان کے مطابق ملازمین اور ارکان اسمبلی کی تنخواہوں کے بجٹ میں اصلاحات کے ذریعے 2 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ اس پورے اصلاحاتی عمل کے دوران کسی بھی ملازم کو ملازمت سے فارغ نہیں کیا گیا۔

مزید بتایا گیا ہے کہ بہتر مالی نگرانی اور کفایت شعاری کی پالیسی کے باعث مجموعی طور پر اربوں روپے کی بچت ممکن ہوئی ہے۔ کاغذ اور ریکارڈ مینجمنٹ کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

جدید انتظامی نظام کے نفاذ سے فیصلہ سازی اور دفتری امور میں بہتری آئی ہے، جبکہ سرکاری ٹرانسپورٹ اور سفری اخراجات کے مؤثر انتظام کے ذریعے بھی نمایاں بچت حاصل کی گئی ہے۔

انتظامی اصلاحات کے ذریعے مزید 2.5 ارب روپے کی بچت ریکارڈ کی گئی ہے۔

اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ قومی وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال قومی اسمبلی کی اولین ترجیح ہے اور پارلیمنٹ مالی نظم و ضبط اور اچھی حکمرانی کی عملی مثال بن رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اصلاحاتی عمل قومی اسمبلی کو ایک جدید، مؤثر اور عوام دوست ادارہ بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق

متعلقہ مضامین

  • اسپیکر سردار ایاز صادق کی اصلاحاتی پالیسیوں سے قومی اسمبلی کے اخراجات میں نمایاں کمی
  • ویزہ اوور سٹے پر ڈی پورٹ ہونے والوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا غیر قانونی قرار
  • کسان کارڈ سے کاشتکار سر اٹھا کر جیئے گا: مریم نواز
  • پنجاب میں پہلی بار 8 لاکھ 32ہزار سےزائدکاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • عمران خان نے قومی حکومت کی حامی بھرلی ،فواد چوہدری کادعویٰ
  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا