ٹرانسجینڈر نہیں ہوں، مومنہ اقبال نے صنفی شناخت سے متعلق من گھڑت خبروں کو مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنی صنفی شناخت سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک جعلی ویڈیو پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں مومنہ نے انکشاف کیا کہ یہ ویڈیو ان کے اگست 2022 میں دیے گئے انٹرویو کے ایک کلپ کو ایڈٹ کرکے جعلی انداز میں پیش کی گئی، جسے اب تک 45 ملین سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔
مومنہ کا کہنا تھا کہ اس ویڈیو کے بعد انہیں رپورٹرز کی کالز موصول ہونا شروع ہو گئیں، اور وہ حیرت زدہ تھیں کہ لوگوں کو کیا جواب دیں، کیونکہ کسی لڑکی سے اس کی صنفی شناخت پر سوال کرنا نہایت تکلیف دہ بات ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت بہت سے لوگ انہیں وضاحت دینے کا مشورہ دے رہے تھے، لیکن وہ سوچتی رہیں کہ اس قسم کی بے بنیاد باتوں پر کیا ردعمل دیا جائے۔ اس لئے انہوں نے کسی بھی قسم کا ردعمل دینے سے گریز کیا۔
اداکارہ نے کہا کہ اگر ان کے بارے میں کی جانے والی باتیں سچ ہوتیں تو وہ تسلیم کر لیتیں، مگر جب ایسا کچھ ہے ہی نہیں تو جھوٹ پر وضاحت کیوں دیں؟
واضح رہے کہ مومنہ اقبال پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ ہیں جو اب تک کئی مقبول ڈراموں میں بطور مرکزی اداکارہ کام کر چکی ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔