اسمبلی کے تقدس پر حملہ ناقابل برداشت، قائم مقام اسپیکر پنجاب اسمبلی
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
قائم مقام اسپیکر پنجاب اسمبلی ظہیر اقبال چنڑ نے ایوان میں بدتمیزی اور اپوزیشن ارکان کو دی جانے والی دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب اسمبلی میں پرائیویٹ گارڈ ز نے اپوزیشن اراکین کو گالیاں کیوں دیں؟
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ظہیر اقبال چنڑ نے کہا کہ ایوان میں نظم و ضبط کے لیے حکومتی و اپوزیشن اراکین نے باہمی اتفاق کیا تھا اور ایوان میں بدتمیزی نہ کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔ تاہم اسپیکر کی رولنگ کے باوجود ناخوشگوار واقعہ پیش آیا، جو ایوان کے تقدس کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک رکن کا دوسرے پر حملہ کرنا ناقابل قبول ہے، کیونکہ پنجاب اسمبلی 12 کروڑ عوام کی نمائندہ ہے اور اس کے وقار کو ہر حال میں برقرار رکھنا ضروری ہے۔
ظہیر اقبال چنڑ نے ایوان کو ’مچھلی بازار‘ میں تبدیل کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر کی رولنگ کی خلاف ورزی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ واقعہ میں ملوث رکن کی معطلی آئین اور اسمبلی رولز کے مطابق کی گئی ہے، جبکہ ایوان کے باہر اپوزیشن اراکین کو نان ممبرز کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کو بھی ناقابل قبول قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے بعد ایوان کے باہر بھی کشیدگی، اپوزیشن کے 2 ارکان کی رکنیت معطل
انہوں نے دھمکی آمیز رویے کی مکمل انکوائری کا حکم اسمبلی سیکریٹریٹ کو دے دیا ہے۔
ظہیر اقبال چنڑ کا کہنا تھا کہ پہلے تو اسمبلی میں لڑائی نہیں ہونی چاہیے، لیکن اگر ایسا ہو بھی جائے تو باہر کے افراد کی مداخلت بالکل ناقابل برداشت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں ملوث افراد کی شناخت ہو چکی ہے اور ایوان کے تقدس کو پامال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپوزیشن پنجاب اسمبلی ظہیر اقبال چنڑ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن پنجاب اسمبلی ظہیر اقبال چنڑ ظہیر اقبال چنڑ پنجاب اسمبلی ایوان کے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔