بانی پی ٹی آئی کے اپنے بچوں کو پاکستان آنے سے روکنے پر خواجہ آصف کا ردِعمل
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
خواجہ آصف—فائل فوٹو
بانیٔ تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی جانب سے اپنے بچوں کو پاکستان آنے سے روکنے کے معاملے پر وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اپنے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
ایک بیان میں خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ بہت سے ڈراموں میں سے یہ بھی ایک ڈرامہ تھا، یہ والد اور اولاد کی ملاقات نہیں سیاسی منافع تھا۔
بانیٔ تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے بچوں کو پاکستان آنے سے روک دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کا کوئی بھی اقدام غیر سیاسی یا مالی منافع کے بغیر نہیں ہوتا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی ورکرز اور ان کے بچے ان کی اقتدار کی ہوس و خواہشات کی تکمیل کے لیے استعمال ہوں گے۔
وزیرِ دفاع نے یہ بھی کہا کہ قربانیوں کے لیے اولاد بھی دوسروں کی اور مال بھی دوسروں کا، یہ منافقت میں لپٹی بزدلی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اپنے بچوں کو پاکستان ا نے سے خواجہ ا صف پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔