وفاقی حکومت کا ایف سی کو ملک گیر فیڈرل فورس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
وفاقی حکومت کا ایف سی کو ملک گیر فیڈرل فورس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 13 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی حکومت نے فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی)کو ملک گیر فیڈرل فورس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے فرنٹیئر کانسٹیبلری(ایف سی)کو ملک گیر وفاقی فورس میں توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے، وفاقی کابینہ کی طرف سے فرنٹیئر کانسٹیبلری ایکٹ 1915 میں ترامیم کی منظوری کے بعد پورے پاکستان میں ایف سی کے دائرہ اختیار کو بڑھانے کے لیے ایک آرڈیننس جاری کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اس فورس کا نام بدل کر فیڈرل کانسٹیبلری رکھا جائے گا۔ جس کو چاروں صوبوں، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں کام کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔
آرڈیننس کے نفاذ کے بعد، نئی فورس کے لیے ملک بھر میں بھرتی کی جائے گی، جس کے ملک بھر میں دفاتر قائم کیے جائیں گیتنظیم نو فریم ورک کے تحت، فیڈرل کانسٹیبلری کی کمانڈ پولیس سروس آف پاکستان کے افسران کریں گے، فیڈرل کانسٹیبلری کے قیام سے ملکی داخلی سلامتی اور امن او عامہ کے قیام میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ذرائع کے مطابق اس اقدام کو قومی سطح پر داخلی سلامتی کے طریقہ کار کو مضبوط اور مرکزی بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخیبرپختونخوا بدامنی کی لپیٹ میں، وزیراعلی سیاسی نمائش میں مصروف ہیں،اپوزیشن لیڈر کے پی ڈاکٹر عباد اللہ خیبرپختونخوا بدامنی کی لپیٹ میں، وزیراعلی سیاسی نمائش میں مصروف ہیں،اپوزیشن لیڈر کے پی ڈاکٹر عباد اللہ وفاق کی پالیسیوں کے باعث سندھ کی توانائی کے شعبے کی ترقی شدید متاثر ہو رہی ہے، شرجیل انعام میمن پنجاب میں پہلی بار بارش کو خودکار پیمانے سے ماپنے کا فیصلہ عمران خان کے بیٹوں نے قانون ہاتھ میں لیا تو گرفتاری ہو گی ، گورنر خیبرپختونخوا مسلح جدوجہد کشمیریوں کا حق ہے، بھارت حرکتوں سے بازنہ آیا تو اسے مزید ہزیمت اٹھانا پڑیگی، وزیراعظم آزاد کشمیر ملک بھر میں مون سون کا نیا اسپیل داخل، ممکنہ سیلاب کا الرٹ جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایف سی کو ملک گیر وفاقی حکومت کا فیصلہ فورس میں کرنے کا کے لیے
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔