اسلام آباد کے بعد بٹگرام میں گدھے کا گوشت برآمد، مقامی مارکیٹوں میں سپلائی کا شبہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
اسلام آباد کے بعد خیبر پختونخوا میں بھی گدھے کے گوشت کی برآمدگی نے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
صوبے کے پسماندہ ضلع بٹگرام میں ضلعی انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے گدھے کا گوشت برآمد کیا، جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسے مقامی مارکیٹوں میں فروخت کے لیے سپلائی کیا جانا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں گدھے کا گوشت ، فوڈ اتھارٹی کی کارروائی پر اہم تفصیلات سامنے آگئیں
انتظامیہ کے مطابق ایک شہری کی خفیہ اطلاع پر ڈپٹی کمشنر بٹگرام نے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر اختر رسول کو فوری ایکشن کی ہدایت کی۔
اختر رسول نے کوزہ بانڈہ کے علاقے میں چھاپہ مارا، جہاں سے ذبح کیا گیا گدھا اور اس کا گوشت برآمد ہوا، جسے فوری طور پر ضبط کر کے موقع پر ہی تلف کردیا گیا۔
کارروائی کے دوران موقع پر موجود 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا، جن پر گدھے کو ذبح کرنے اور اس کا گوشت بیچنے کی کوشش کا الزام ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تفتیش شروع کردی گئی ہے تاکہ اس نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے جو اس غیرقانونی سرگرمی میں ملوث ہے۔
پولیس یہ بھی جاننے کی کوشش کررہی ہے کہ برآمد شدہ گوشت کہاں اور کس کو سپلائی کیا جانا تھا، اور اس جرم میں مزید کون کون شریک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا راولپنڈی اسلام آباد کے ہوٹلوں پر گدھے کا گوشت سپلائی کیا جاتا رہا ہے؟
یہ واقعہ نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ صوبائی سطح پر بھی خوراک کے معیار اور نگرانی پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسلام اباد انتظامیہ بٹگرام ترنول خیبرپختونخوا ڈپٹی کمشنر بٹگرام گدھے کا گوشت برآمد وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد انتظامیہ بٹگرام ترنول خیبرپختونخوا گدھے کا گوشت برا مد وی نیوز گدھے کا گوشت
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔