اسرائیلی فوج کے ہاتھوں امداد کے منتظر 38افراد سمیت مزید 98فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
اسرائیلی فوج کے ہاتھوں امداد کے منتظر 38افراد سمیت مزید 98فلسطینی شہید WhatsAppFacebookTwitter 0 13 July, 2025 سب نیوز
غزہ (سب نیوز) اسرائیلی فوج کی بربریت نہ تھم سکی، قابض فوج نے مختلف علاقوں پر حملے کرکے صبح سے اب تک مزید 98 فلسطینیوں کو شہید کردیا۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کے تازہ حملوں میں شہید 38 افراد امداد کے انتظار میں قطاروں میں کھڑے تھے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے آج تازہ حملوں میں کم ازکم 98 فلسطینی شہید ہوئے اور7 اکتوبر 2023 سے اب تک شہدا کی مجموعی تعداد57 ہزار 850 سے تجاوز کرگئی جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 38 ہزار 95 تک پہنچ گئی۔
ادھر غزہ میں انسانی امداد کی شدید قلت برقرار ہے۔ فلسطینی حکام نے خبردار کیا کہ علاقے میں جاری محاصرے اور انسانی امداد کی شدید قلت کے باعث تقریبا 6 لاکھ 50 ہزار بچے قحط اور غذائی قلت کے سنگین خطرے سے دوچار ہیں، فلسطینی حکام نے اس معاملے پر عالمی برادری کی خاموشی کو شرمناک قرار دیا۔اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی ایجنسی اونروا کی تازہ رپورٹ کے مطابق غزہ کا 86.
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی حکومت کا ایف سی کو ملک گیر فیڈرل فورس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ وفاقی حکومت کا ایف سی کو ملک گیر فیڈرل فورس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ خیبرپختونخوا بدامنی کی لپیٹ میں، وزیراعلی سیاسی نمائش میں مصروف ہیں،اپوزیشن لیڈر کے پی ڈاکٹر عباد اللہ وفاق کی پالیسیوں کے باعث سندھ کی توانائی کے شعبے کی ترقی شدید متاثر ہو رہی ہے، شرجیل انعام میمن پنجاب میں پہلی بار بارش کو خودکار پیمانے سے ماپنے کا فیصلہ عمران خان کے بیٹوں نے قانون ہاتھ میں لیا تو گرفتاری ہو گی ، گورنر خیبرپختونخوا مسلح جدوجہد کشمیریوں کا حق ہے، بھارت حرکتوں سے بازنہ آیا تو اسے مزید ہزیمت اٹھانا پڑیگی، وزیراعظم آزاد کشمیرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔