یورپی انسانی حقوق کی تنظیم یورو میڈیٹیرین ہیومن رائٹس مانیٹر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر غزہ میں نسل کشی میں معاونت کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف فوجداری مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مانیٹرنگ گروپ کا کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم کے دوران اسرائیلی حملوں میں 800 سے زائد فلسطینیوں کی شہادت ہوئی، جن میں کئی کو امریکی نجی سکیورٹی کنٹریکٹرز اور اسرائیلی فوجیوں نے نشانہ بنایا۔

رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو فوجی، مالی، سفارتی اور سیاسی مدد فراہم کی، جس نے غزہ میں جاری جنگ کو مزید خطرناک بنا دیا۔ 

گروپ کا کہنا ہے کہ یہ امداد نسل کشی میں معاونت کے زمرے میں آتی ہے، جس پر عالمی قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔

مانیٹر کے مطابق امریکی سکیورٹی کنٹریکٹرز نے اسرائیلی فوج کے ساتھ مل کر غزہ میں امداد حاصل کرنے والے فلسطینیوں پر حملے کیے۔ تنظیم نے بین الاقوامی فوجداری عدالت اور انسانی حقوق اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹرمپ کو جوابدہ ٹھہرائیں اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل