غزہ نسل کشی میں معاونت کا الزام، ٹرمپ کے خلاف فوجداری مقدمہ چلانے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
یورپی انسانی حقوق کی تنظیم یورو میڈیٹیرین ہیومن رائٹس مانیٹر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر غزہ میں نسل کشی میں معاونت کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف فوجداری مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
مانیٹرنگ گروپ کا کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم کے دوران اسرائیلی حملوں میں 800 سے زائد فلسطینیوں کی شہادت ہوئی، جن میں کئی کو امریکی نجی سکیورٹی کنٹریکٹرز اور اسرائیلی فوجیوں نے نشانہ بنایا۔
رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو فوجی، مالی، سفارتی اور سیاسی مدد فراہم کی، جس نے غزہ میں جاری جنگ کو مزید خطرناک بنا دیا۔
گروپ کا کہنا ہے کہ یہ امداد نسل کشی میں معاونت کے زمرے میں آتی ہے، جس پر عالمی قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔
مانیٹر کے مطابق امریکی سکیورٹی کنٹریکٹرز نے اسرائیلی فوج کے ساتھ مل کر غزہ میں امداد حاصل کرنے والے فلسطینیوں پر حملے کیے۔ تنظیم نے بین الاقوامی فوجداری عدالت اور انسانی حقوق اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹرمپ کو جوابدہ ٹھہرائیں اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔