راولپنڈی (نیوز ڈیسک) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ جسے بھیجا جاتا ہے، وہ صحافت تو نہیں کرتا، یہ سب کچھ دانستہ کیا جا رہا ہے۔

اڈیالہ جیل جاتے ہوئے داہگل ناکا پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ کل جو کچھ بھی ہوا، میں اس سب کی مذمت کرتی ہوں۔ جب کوئی جان بوجھ کر بھیجا جاتا ہے تو وہ صحافت تو نہیں کرتا۔ جان بوجھ کر مستی کی گئی ہے، لوگوں کو اشتعال دلایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہاں اپنے بھائی کے لیے آتے ہیں۔ دوچار لوگ یہاں آتے ہیں، وہ جان بوجھ کر بدتمیزی کرتے ہیں۔ میں نے اپنے بیٹوں کو بھی یہاں آنے سے روکا ہے، وہ آتے تو کیا حال ہوتا۔ میرے بیٹے آتے تو ان پر بھی دہشت گردی کے کیس بن جاتے۔ ہم آج اسی لیے یہاں اکیلے آئے ہیں۔ یہ سب جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ کسی کو مارنا نہیں چاہیے تھا اور نہ ہی لڑائی جھگڑا ہونا چاہیے تھا۔ یہ کس نے کہا کہ میری امریکا میں پراپرٹی شوکت خانم کے فنڈ ریزنگ سے خریدی گئی ہے؟۔صحافی کا کام ہے کہ اگر اس کے پاس ثبوت ہے تو سامنے لائے۔ میں کہہ رہی ہوں میری پراپرٹی میرے حق حلال کے پیسوں کی ہے۔ میں ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹر ہوں، ٹیکسٹائل کا کاروبار ہے۔ آپ غیر متعلقہ سوال کرکے ٹیکسٹائل کاروبار کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ میری کمپنی میری نمائندگی کرتی ہے۔ ایکسپورٹ کا کاروبار کرنے والوں پر آپ الزام لگا رہے ہیں۔

اس موقع پر علیمہ خان کی بہن نورین نیازی نے کہا کہ شوکت خانم سب کا ہے، اس پر سوال نہ اٹھائیں۔ نعیم پنجوتھہ نے جو کیا، اس کا جواب ان ہی سے پوچھیں۔ ہم اپنے بھائی اور بھابی دونوں کے لیے آتے ہیں۔

علیمہ خان نے کہا کہ یہ جو انڈا پھینکا گیا تھا، اس کے بارے میں کوئی نہیں پوچھ رہا۔ بشریٰ بی بی کی بہن کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔ اگر میں نے اپنے اوپر انڈا خود پھنکوایا تو پولیس ان خواتین کو بچا کر کیوں لے گئی؟۔ ہم پر انڈا پھینکے جائیں یا اور کوئی تذلیل کی جائے، ہمیں کوئی فکر نہیں۔

واضح رہے کہ آج کی میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان صحافیوں کو بھائی اور بیٹا کہہ کر مخاطب کرتی رہیں۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: علیمہ خان نے کہا نے کہا کہ

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف