data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لندن :برطانیہ کی لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے تقریباً 60 ارکانِ پارلیمنٹ نے حکومتِ برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرے اور غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق یہ مطالبہ ایک خط کے ذریعے کیا گیا جو وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کو ارسال کیا گیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق یہ خط “لیبر فرینڈز آف فلسطین اینڈ دی مڈل ایسٹ” نامی گروپ کی جانب سے ترتیب دیا گیا تھا اور اس پر پارٹی کے اعتدال پسند اور بائیں بازو کے دونوں دھڑوں سے تعلق رکھنے والے 59 ارکانِ پارلیمنٹ نے دستخط کیے ہیں، خط میں اسرائیل کی جانب سے جنوبی غزہ کے شہر رفح میں تباہ شدہ علاقوں میں خیموں پر مشتمل ایک نام نہاد “انسانی ہمدردی کی بستی” بسانے کے منصوبے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جسے ارکانِ پارلیمنٹ نے جبری نقل مکانی اور فلسطینیوں کی موجودگی مٹانے کی سازش قرار دیا۔

خط میں کہا گیا کہ  ہم یہ خط فوری اور شدید تشویش کے ساتھ لکھ رہے ہیں، اسرائیلی وزیر دفاع کے اُس بیان پر جس میں انہوں نے رفح میں تمام فلسطینی شہریوں کو ایک کیمپ میں منتقل کرنے کا منصوبہ پیش کیا، ہم اسے جبری منتقلی اور نسلی صفائی کا عمل سمجھتے ہیں۔

ارکانِ پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا کہ برطانیہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی (UNRWA) کی مالی معاونت بحال کرے، یرغمالیوں کی رہائی کی حمایت کرے اور مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات پر تجارتی پابندی عائد کرے۔

اراکین نے خط میں یہ بھی واضح کیا کہ فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم نہ کرنا، برطانیہ کی خود اپنی دو ریاستی حل کی پالیسی کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، اگر ہم فلسطین کو ریاست تسلیم نہیں کرتے تو ہم اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ موجودہ صورتحال جاری رہ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں فلسطینی سرزمین کا انضمام اور اس کی شناخت کا خاتمہ ہوتا جا رہا ہے۔

واضح رہےکہ  غزہ میں جاری جنگ اپنے دسویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے، جس دوران ہزاروں فلسطینی شہید، لاکھوں بے گھر، اور بنیادی انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، فائر بندی کی تمام کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام متحدہ کی ایجنسیاں غزہ میں جاری صورتحال کو بدترین انسانی بحران قرار دے چکی ہیں۔

خیال رہےکہ برطانیہ کی نئی لیبر حکومت نے تاحال فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے متعلق اپنی پالیسی میں باضابطہ تبدیلی نہیں کی، پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے دباؤ اور عوامی مطالبات کے پیشِ نظر مستقبل میں پالیسی شفٹ کے امکانات کو رد نہیں کیا جا رہا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پارلیمنٹ نے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل